ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 471
۴۷۱ ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلد ۳ اور اس کی ذلت اور رسوائی ظاہر ہو جائے وہ بلا شبہ میت کے ہی حکم میں ہوتا ہے۔ بعض یہ شبہ بھی پیش کرتے ہیں کہ ایک سوال کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ جب دجال کے زمانہ میں دن لمبے ہو جائیں گے یعنی برس کی مانند یا اس سے کم تو تم نے نمازوں کا اندازہ کر لیا کرنا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلعم کو انہیں ظاہری معنوں پر یقین تھا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ صرف فرضی طور پر ایک سوال کا جواب حسب منشاء سائل دیا گیا تھا اور اصلی واقعہ کا بیان کرنا مدعانہ تھا بلکہ آپ نے صاف صاف فرما دیا تھا کہ سائر ایامہ کایـا مـکم ۔ ماسوا اس کے یہ بات یا در کھنے کے لائق ہے کہ ایسے امور میں جو عملی طور پر سکھلائے نہیں جاتے اور نہ اُن کی جزئیات خفیہ سمجھائی جاتی ہیں۔ انبیاء سے بھی اجتہاد کے وقت (۶۸۸ امکان سہو و خطا ہے مثلاً اس خواب کی بناء پر جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے جو بعض مومنوں کے لئے موجب ابتلاء کا ہوئی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ کا قصد کیا اور کئی دن تک منزل در منزل طے کر کے اس بلدہ مبارکہ تک پہنچے مگر کفار نے طواف خانہ کعبہ سے روک دیا اور اُس وقت اس رؤیا کی تعبیر ظہور میں نہ آئی لیکن کچھ شک نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی امید پر یہ سفر کیا تھا کہ اب کے سفر میں ہی طواف میسر آ جائے گا اور بلاشبہ رسول اللہ صلعم کی خواب وحی میں داخل ہے لیکن اس وحی کے اصل معنے سمجھنے میں جو غلطی ہوئی اس پر متنبہ نہیں کیا گیا تھا تبھی تو خدا جانے کئی روز تک مصائب سفر اٹھا کر مکہ معظمہ میں پہنچے ۔ اگر راہ میں متنبہ کیا جاتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ضرور مدینہ منورہ میں واپس آجاتے پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں نے آپ کے رو برو ہاتھ نا اپنے شروع کئے تھے تو آپ کو اس غلطی پر متنبہ نہیں کیا گیا یہاں تک کہ آپ فوت ہو گئے اور بظاہر معلوم ہوتا ہے (۱۸۹) کہ آپ کی یہی رائے تھی کہ در حقیقت جس بیوی کے لمبے ہاتھ ہیں وہی سب سے پہلے فوت ہوگی ۔ اسی وجہ سے باوجود یکہ آپ کے روبرو با ہم ہاتھ ناپے گئے مگر آپ نے منع نہ فرمایا