ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 470
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۷۰ ازالہ اوہام حصہ دوم احادیث صحیحہ کا منشاء ہے مشرق و مغرب کا سیر کر رہا ہے اور وہ گدھا دجال کا بنایا ہوا ہوتا جو حدیث کے منشاء کے موافق ہے اس دلیل سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر ایسا گدھا معمولی طور پر کسی گدھی کے شکم سے پیدا ہوتا تو اس قسم کے بہت سے گدھے اب بھی موجود ہونے چاہیے تھے کیونکہ بچے کی مشابہت قد و قامت اور سیر و سیاحت اور قوت و طاقت میں اس کے والدین سے ضروری ہے۔ لہذا احادیث صحیحہ کا اشارہ اسی بات کی طرف ہے کہ وہ گدھا دجال ۶۸۶ کا اپنا ہی بنایا ہوا ہو گا پھر اگر وہ ریل نہیں تو اور کیا ہے۔ ایسا ہی یا جوج ماجوج کی قو میں بھی بڑے زور سے خروج کر رہی ہیں۔ دابتہ الارض بھی جا بجا نظر آتا ہے۔ ایک تاریک دخان نے بھی آسمان سے نازل ہو کر دنیا کو ڈھانک لیا ہے۔ پھر اگر ایسے وقت میں مسیح ظاہر نہ ہوتا تو پیشگوئی میں کذب لازم آتا ۔ سو مسیح موعود جس نے اپنے تئیں ظاہر کیا وہ یہی عاجز ہے۔ اگر یہ شبہ پیش کیا جائے کہ دجال کی علامتیں کامل طور پر ان انگریز پادریوں کے فرقوں میں کہاں پائی جاتی ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہم کامل طور پر اسی رسالہ میں ثابت کر آئے ہیں کہ در حقیقت یہی لوگ دجال معہود ہیں۔ اور اگر غور سے دیکھا جائے تو تمام علامات ان پر صادق آ رہی ہیں۔ اور ان لوگوں نے باعث اپنی صنعتوں اور تدبیروں اور حکیمانہ ید طولی اور وسعت مالی کے ہر یک چیز گویا اپنے قابو میں کر رکھی ہے۔ اور یہ علامت کہ دجال صرف چالیس دن رہے گا اور بعض دن برس کی طرح ہوں گے یہ حقیقت پر محمول نہیں ہوسکتی کیونکہ بعض حدیثوں میں بجائے چالیس دن کے چالیس سال بلکہ پینتالیس برس بھی آیا ہے ۔ ۶۸۷ پھر اگر بعض دن برس کے برابر ہوں گے تو اس سے لازم آتا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت بھی ہو جائے اور دجال ہنوز باقی رہے۔ لہذا اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ سب الفاظ قابل تاویل ہیں۔ دجال کے فوت ہونے سے مراد اس قوم کا استیصال نہیں بلکہ اس مذہب کے دلائل اور حجج کا استیصال ہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ جو مذہب دلائل یقینیہ کے رو سے بکلی مغلوب ہو جائے