ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 462
۴۶۲ ازالہ اوہام حصہ دوم روحانی خزائن جلد ۳ کیونکہ ایمانی فراست اور زیر کی بالکل اُن میں سے اُٹھ گئی تھی اور اُن کے نفوس مظلمہ پر جہل غالب آگیا تھا اور سفلی مکاریاں اور کراہت کے کام اُن سے سرزد ہوتے تھے اور جھوٹ اور ریا کاری اور غداری اُن میں انتہا تک پہنچ گئی تھی۔ ایسے وقت میں اُن کی طرف مسیح ابن مریم بھیجا گیا تھا جو بنی اسرائیل کے مسیحوں اور خلیفوں میں سے آخری مسیح اور آخری خلیفہ اللہ تھا جو (۲۷۱) بر خلاف سنت اکثر نبیوں کے بغیر تلوار اور نیزہ کے آیا تھا۔ یا درکھنا چاہیے کہ شریعت موسوی میں خلیفہ اللہ کو مسیح کہتے تھے اور حضرت داؤد کے وقت اور یا اُن سے کچھ عرصہ پہلے یہ لفظ بنی اسرائیل میں شائع ہو گیا تھا۔ بہر حال اگر چہ بنی اسرائیل میں کئی مسیح آئے لیکن سب سے پیچھے آنے والا مسیح وہی ہے جس کا نام قرآن کریم میں مسیح عیسی بن مریم بیان کیا گیا ہے۔ بنی اسرائیل میں مریمیں بھی کئی تھیں اور ان کے بیٹے بھی کئی تھے لیکن مسیح عیسی بن مریم یعنی ان تینوں ناموں سے ایک مرکب نام بنی اسرائیل میں اُس وقت اور کوئی نہیں پایا گیا۔ سوسیح عیسی بن مریم یہودیوں کی اس خراب حالت میں آیا جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔ آیات موصوفہ بالا میں ابھی ہم بیان کر چکے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کا اس اُمت کے لئے وعدہ تھا کہ بنی اسرائیل کی طرز پر ان میں بھی خلیفے پیدا ہوں گے۔ اب ہم جب اس طرز کو نظر کے سامنے لاتے ہیں تو ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ ضرور تھا کہ آخری خلیفہ اس اُمت کا مسیح ابن مریم کی صورت مثالی پر آوے اور اس زمانہ (۱۷۲) میں آوے کہ جو اُس وقت سے مشابہ ہو جس وقت میں بعد حضرت موسیٰ کے مسیح ابن مریم آئے تھے یعنی چودھویں صدی میں یا اس کے قریب اُس کا ظہور ہوا اور ایسا ہی بغیر سیف و سنان کے اور بغیر آلات حرب کے آوے جیسا کہ حضرت مسیح ابن مریم آئے تھے اور نیز ایسے ہی لوگوں کی اصلاح کے لئے آوے جیسا کہ مسیح ابن مریم اُس وقت کے خراب اندرون یہودیوں کی اصلاح کے لئے آئے تھے ۔ اور جب آیات ممدوحہ بالا کو غور سے دیکھتے ہیں تو ہمیں ان کے اندر سے یہ آواز سنائی دیتی ہے کہ ضرور آخری خلیفہ اس اُمت کا جو چودھویں صدی کے سر پر ظہور کرے گا حضرت مسیح کی صورت مثالی پر آئے گا اور بغیر آلات حرب ظہور کرے گا