ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 460
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۶۰ ازالہ اوہام حصہ دوم وہ تنزل کا زمانہ ہو جو یہودیوں پر اُن کے آخری دنوں میں آیا تھا۔ ۲۲۷) اس زمانہ کے بعض نو تعلیم یافتہ ایسے شخص کے آنے سے ہی شک میں ہیں جو ابن مریم کے نام پر آئے گا وہ کہتے ہیں کہ یہ عظیم الشان شخص جو حدیثوں میں بیان کیا گیا ہے اگر واقعی طور پر ایسا آدمی آنے والا تھا تو چاہیے تھا کہ قرآن کریم میں اس کا کچھ ذکر ہوتا جیسا کہ دابتہ الارض اور دخان اور یا جوج ماجوج کا ذکر ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ لوگ سراسر غلطی پر ہیں۔ خدائے تعالیٰ نے اپنے کشف صریح سے اس عاجز پر ظاہر کیا ہے کہ قرآن کریم میں مثالی طور پر ابن مریم کے آنے کا ذکر ہے اور وہ یوں ہے کہ خدائے تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسی قرار دیا ہے جیسا کہ فرماتا ہے إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُوْلًا شَاهِدًا عَلَيْكُمُ كَمَا اَرْسَلْنَا إلى فِرْعَوْنَ رَسُولاً اس آیت میں خدائے تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ کی طرح اور کفار کو فرعون کی طرح ٹھہرایا۔ اور پھر دوسری جگہ فرمایا وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا ۲۲۸) يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَيكَ هُمُ الْفَسِقُونَ الجز و نمبر ١٨ سورة النور یعنی خدائے تعالیٰ نے اس اُمت کے مومنوں اور نیکوکاروں کے لئے وعدہ فرمایا ہے کہ انہیں زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اس نے پہلوں کو بنایا تھا یعنی اُسی طرز اور طریق کے موافق اور نیز اُسی مدت اور زمانہ کے مشابہ اور اُسی صورت جلالی اور جمالی کی مانند جو بنی اسرائیل میں سنت اللہ گذر چکی ہے اس اُمت میں بھی خلیفے بنائے جائیں گے اور اُن کا سلسلہ خلافت اس سلسلے سے کم نہیں ہو گا جو بنی اسرائیل کے خلفاء کے لئے مقرر کیا گیا تھا اور نہ ان کی طرز خلافت اس طرز سے مبائن و مخالف ہوگی جو بنی اسرائیل کے خلیفوں کے لئے مقرر کی گئی تھی ۔ پھر آگے فرمایا ہے کہ ان خلیفوں کے ذریعے سے زمین پر دین المزمل : ۱۶ - النور : ۵۶