ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 459
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۵۹ ازالہ اوہام حصہ دوم جو ہمارا تھا وہ اب دلبر کا سارا ہوگیا آج ہم دلبر کے اور دلبر ہمارا ہو گیا شکر اللہ مل گیا ہم کو وہ لعل بے بدل کیا ہوا گرقوم کا دل سنگ خارا ہو گیا مسیح موعود ہونے کا ثبوت ۶۶۵ اس میں تو کچھ شک نہیں کہ اس بات کے ثابت ہونے کے بعد کہ در حقیقت حضرت مسیح ابن مریم اسرائیلی نبی فوت ہو گیا ہے ہر ایک مسلمان کو یہ ماننا پڑے گا کہ فوت شدہ نبی ہرگز دنیا میں دوبارہ نہیں آسکتا کیونکہ قرآن اور حدیث دونوں بالاتفاق اس بات پر شاہد ہیں کہ جو شخص مر گیا پھر دنیا میں ہر گز نہیں آئے گا اور قرآن کریم أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ل کہہ کر ہمیشہ کے لئے اس دنیا سے اُن کو رخصت کرتا ہے اور قصہ عزیر وغیرہ جو قرآن کریم میں ہے اس بات کے مخالف نہیں کیونکہ لغت میں موت بمعنی نوم اور غشی بھی آیا ہے ۔ دیکھو قاموس ۔ اور جو عزیر کے قصہ میں ہڈیوں پر گوشت چڑھانے کا ذکر ہے وہ حقیقت میں (۲۲۲) ایک الگ بیان ہے جس میں یہ جتلا نا منظور ہے کہ رحم میں خدائے تعالیٰ ایک مردہ کو زندہ کرتا ہے اور اس کی ہڈیوں پر گوشت چڑھاتا ہے اور پھر اس میں جان ڈالتا ہے ماسوا اس کے کسی آیت یا حدیث سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ عزیر دوبارہ زندہ ہو کر پھر بھی فوت ہوا ۔ پس اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ عزیر کی زندگی دوم دنیوی زندگی نہیں تھی ورنہ بعد اس کے ضرور کہیں اس کی موت کا بھی ذکر ہوتا ۔ ایسا ہی قرآن کریم میں جو بعض لوگوں کی دوبارہ زندگی لکھی ہے وہ بھی دنیوی زندگی نہیں۔ اب حدیثوں پر نظر غور کرنے سے بخوبی یہ ثابت ہوتا ہے کہ آخری زمانہ میں ابن مریم اتر نے والا ہے جس کی یہ تعریفیں لکھی ہیں کہ وہ گندم گوں ہوگا اور بال اس کے سیدھے ہوں گے اور مسلمان کہلائے گا اور مسلمانوں کے باہمی اختلافات دُور کرنے کے لئے آئے گا اور مغز شریعت جس کو وہ بھول گئے ہوں گے انہیں یاد دلائے گا اور ضرور ہے کہ وہ اس وقت نازل ہو جس وقت انتہا تک شرر اور فتن پہنچ جائیں اور مسلمانوں پر الانبياء : ٩٦