ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 446
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۴۶ ازالہ اوہام حصہ دوم بلکہ اس قسم کی بہت سی آیات قرآن شریف میں موجود ہیں کہ جو مر گیا وہ ہرگز پھر دنیا میں واپس نہیں آئے گا۔ اور یہ تو ظاہر ہو چکا کہ حضرت مسیح فی الواقعہ فوت ہو چکے ہیں۔ پھر (۱۴) با وجود اس قرینہ صحیحہ مینہ کے اگر حدیثوں میں ابن مریم کے نزول کا ذکر آیا ہے تو کیا یہ عقلمندی ہے کہ یہ خیال کیا جائے کہ وہی ابن مریم رسول اللہ آسمان سے اتر آئے گا۔ مثلاً دیکھئے کہ اللہ جل شانة سورة بقر میں فرماتا ہے کہ اے بنی اسرائیل ہماری اس نعمت کو یاد کرو کہ ہم نے آل فرعون سے تمہیں چھڑایا تھا جب وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری بیٹیوں کو رکھ لیتے تھے اور وہ زمانہ یاد کرو جب دریا نے تمہیں راہ دیا تھا اور فرعون اس کے لشکر کے سمیت غرق کیا گیا تھا اور وہ زمانہ یاد کرو جب تم نے موسیٰ کو کہا تھا کہ ہم بغیر دیکھے خدا پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اور وہ زمانہ یاد کرو جب ہم نے تمہیں بدلی کا سایہ دیا اور تمہارے لئے من وسلویٰ اتارا اور وہ زمانہ یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد لیا اور کوہ طور تمہارے سر کے اوپر ہم نے رکھا تھا پھر تم نے سرکشی اختیار کی۔ اور وہ زمانہ یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا کہ تم نے خون نہ کرنا اور اپنے عزیزوں کو اُن کے گھروں سے نہ نکالنا اور تم نے اقرار کر لیا تھا کہ ہم اس عہد پر قائم رہیں گے لیکن تم پھر بھی ناحق کا خون کرتے اور اپنے عزیزوں کو ان کے گھروں ۶۴۲ سے نکالتے رہے۔ تمہاری یہی عادت رہی کہ جب کوئی نبی تمہاری طرف بھیجا گیا تو بعض کو تم نے جھٹلایا اور بعض کے در پے قتل ہوئے یا قتل ہی کر دیا۔ اب فرمائیے کہ اگر یہ کلمات بطور استعارہ نہیں ہیں اور ان تمام آیات کو ظاہر پر حمل کرنا چاہیے تو پھر یہ ماننا پڑے گا کہ جو لوگ در حقیقت ان آیات کے مخاطب ہیں جن کو آل فرعون سے نجات دی گئی تھی اور جن کو دریا نے راہ دیا تھا اور جن پر من وسلویٰ اتارے گئے تھے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ تک زندہ ہی تھے