ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 445
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۴۵ ازالہ اوہام حصہ دوم ایک پرانا خیال جو دل میں جما ہوا ہے کہ مسیح عیسی ابن مریم آسمان سے نازل ہوں گے اسی ۶۳۹ خیال کو اس طرح پر سمجھ لیا ہے کہ گویا سچ مچ حضرت مسیح ابن مریم رسول اللہ جن پر انجیل نازل ہوئی تھی کسی زمانہ میں آسمان سے اتریں گے حالانکہ یہ ایک بھاری غلطی ہے۔ جو شخص فوت ہو چکا اور جس کا فوت ہونا قرآن کریم کی تمیں آیات سے پایہ ثبوت پہنچ گیا وہ کہاں سے اب زمین پر آجائے گا۔ قرآن شریف کی آیات بینات محکمات کو کونسی حدیث منسوخ کر دے گی۔ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَ اللهِ وَالتِهِ يُؤْمِنُوْنَ سچ ہے کہ خدا تعالیٰ زندہ کرنے پر قادر ہے مگر یہ قدرت اس کی وعدہ کے مخالف ہے۔ اُس نے صریح اور صاف لفظوں میں فرما دیا ہے کہ جو لوگ مر گئے پھر دنیا میں نہیں آیا کرتے ۔ جیسا کہ وہ فرماتا ہے فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ لے اور جیسا کہ فرماتا ہے ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ تُبْعَثُونَ الجزو نمبر ١٨ یعنی تم مرنے کے بعد قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے اور جیسا کہ فرماتا ہے حَرامُ عَلى قَرْيَةٍ أَهْلَكْتُهَا أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ کے اور جیسا کہ فرماتا ہے وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ ٥ ۔ اور اگر یہ کہو کہ معجزہ کے طور پر مردے زندہ ہوتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ حقیقی موت نہیں ہوگی بلکہ غشی یا نیند وغیرہ کی قسم سے ہوگی کیونکہ مات کے معنے لغت میں نام کے بھی ہیں دیکھو قاموس ۔ غرض وہ موٹی جو ایک دم کے لئے زندہ ہو گئے ہوں وہ حقیقی موت سے باہر ہیں۔ اور کوئی اس بات کا ثبوت نہیں دے سکتا کہ کبھی حقیقی اور واقعی طور پر کوئی مردہ زندہ ہو گیا اور دنیا میں واپس آیا اور اپنا ترکہ مقسومہ واپس لیا اور پھر دنیا میں رہنے لگا اور خودموت کا لفظ قرآن کریم میں ذوالوجوہ ہے ۔ کافر کا نام بھی مردہ رکھا ہے۔ اور ہوا و ہوس سے مرنا بھی ایک قسم کی موت ہے اور قریب الموت کا نام بھی میت ہے۔ اور یہی تینوں وجوہ استعمال حیات میں بھی پائی جاتی ہیں۔ یعنی حیات بھی تین قسم کی ہیں لیکن آیت فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ بنات محکمات میں سے ہے اور نہ صرف ایک آیت الجاثية : الزمر :٤٣ المؤمنون :۱۷ الانبياء : ٩٦ الحجر : ٤٩