ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 444
روحانی خزائن جلد ۳ بهم هم بهم ازالہ اوہام حصہ دوم نہیں ٹھہر سکتا کیوں کر مباہلہ جائز ہے۔ قرآن کریم سے ظاہر ہے کہ مباہلہ میں دونوں فریق کا اس بات پر یقین چاہیے کہ فریق مخالف میرا کا ذب ہے یعنی عمد اسچائی سے روگرداں ہے مخفی نہیں ہے تا ہریک فریق لعنت اللہ علی الکاذبین کہہ سکے۔ اب اگر میاں عبد الحق اپنے قصور فہم کی وجہ سے مجھے کا ذب خیال کرتے ہیں لیکن میں انہیں کا ذب نہیں کہتا بلکہ خطی جانتا ہوں اور مخطی مسلمان پر لعنت جائز نہیں۔ کیا بجائے لعنت اللہ علی الکاذبین یہ کہنا جائز ہے کہ لعنت الله على المخطئین۔ کوئی مجھے سمجھا دے کہ اگر میں مباہلہ میں فریق مخالف حق پر لعنت کروں تو کس طور سے کروں ۔ اگر میں لعنت اللہ علی الکاذبین کہوں تو یہ صحیح نہیں کیونکہ میں اپنے مخالفین کو کا ذب تو نہیں سمجھتا بلکہ ماؤل مخفی سمجھتا ہوں جو نصوص کو اُن کے ظاہر سے پھیر کر بلا قیام قرینہ باطن کی طرف لے جاتے ہیں اور کذب اس شے کا نام ہے جو ۱۳۸) عمداً اپنے بیان میں اس یقین کی مخالفت کی جائے جو دل میں حاصل ہے مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ آج مجھے روزہ ہے اور خوب جانتا ہے کہ ابھی میں روٹی کھا کے آیا ہوں سو یہ شخص کا ذب ہے۔ غرض کذب اور چیز ہے اور خطا اور چیز ۔ اور خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ کا ذبوں پر لعنت کرو۔ یہ تو نہیں فرما تا کہ مخطیوں پر لعنت کرو۔ اگر مخطی سے مباہلہ اور ملا عنہ جائز ہوتا تو اسلام کے تمام فرقے جو باہم اختلاف سے بھرے ہوئے ہیں۔ بے شک با ہم مباہلہ و ملاعنہ کر سکتے تھے اور بلا شبہ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اسلام کا روئے زمین سے خاتمہ ہو جاتا۔ اور مباہلہ میں جماعت کا ہونا بھی ضروری ہے۔ نص قرآن کریم جماعت کو ضروری ٹھہراتی ہے لیکن میاں عبد الحق نے اب تک ظاہر نہیں کیا کہ مشاہیر علماء کی جماعت اس قدر میرے ساتھ ہے جو مباہلہ کے لئے تیار ہے اور نساء ابناء بھی ہیں۔ پھر جب شرائط مباہلہ متفق نہیں تو مباہلہ کیونکر ہو ۔ اور مباہلہ میں یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ اوّل ازالہ شبہات کیا جائے بجز اس صورت کے کہ کاذب قرار دینے میں کوئی تامل اور شبہ کی جگہ باقی نہ ہو لیکن میاں عبد الحق بحث مباحثہ کا تو نام تک بھی نہیں لیتے۔