ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 443
روحانی خزائن جلد ۳ مم ازالہ اوہام حصہ دوم مظهر الحق والعُلاء كان الله نزل من السماء۔ یــاتــی علیک زمان مختلف بازواج مختلفة وترى نسلا بعيدا ولنحيينک | حيوةً طيبة۔ ثمانين حولا او قريبًا من ذالك۔ انک باعيننا سمیتک | المتوكل يـحـمـدك الله من عرشه۔ كذبوا بايتنا وكانوا بها يستهزء ون سيكفيكهم الله ويردها اليك لا تبديل لكلمات الله ان ربک فعال لما يريد یہ عبارت اشتہار دہم جولائی ۱۸۸۷ کی پیشگوئی کی ہے۔ اب جس قدر میں نے بطور نمونہ کے پیشگوئیاں بیان کی ہیں۔ در حقیقت میرے صدق یا کذب کے آزمانے کے لئے یہی کافی ہے اور جو شخص اپنے تئیں ملہم قرار دے کر مجھے کا ذب اور جہنمی خیال کرتا ہے اُس کے لئے فیصلہ کا طریق یہ ہے کہ وہ بھی اپنی نسبت چند ایسے اپنے الہامات کسی اخبار وغیرہ کے ذریعہ سے شائع کرے جس میں ایسی ہی صاف اور صریح ۶۳۶ پیشگوئیاں ہوں ۔ تب خود لوگ ظہور کے وقت اندازہ کر لیں گے کہ کون شخص مقبول الہی ہے اور کون مردود الہی ۔ ورنہ صرف دعووں سے کچھ ثابت نہیں ہو سکتا۔ اور خدائے تعالیٰ کی عنایات خاصہ میں سے ایک یہ بھی مجھ پر ہے کہ اُس نے علم حقائق و معارف قرآنی مجھ کو عطا کیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ مطہرین کی علامتوں میں سے یہ بھی ایک عظیم الشان علامت ہے کہ علم معارف قرآن حاصل ہو کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے لَا يَمَسُّةَ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ سو فريق مخالف پر یہ بھی لازم ہے کہ جس قدر میں اب تک معارف قرآن کریم اپنی متفرق کتابوں میں بیان کر چکا ہوں۔ اس کے مقابل پر کچھ اپنے معارف کا نمونہ دکھلا وہیں اور کوئی رسالہ چھاپ کر مشتہر کریں تا لوگ دیکھ لیں کہ جو دقائق علم و معرفت اہل اللہ کو ملتے ہیں وہ کہاں تک اُن کو حاصل ہیں مگر بشر طیکہ کتابوں کی نقل نہ ہو۔ ناظرین پر واضح رہے کہ میاں عبد الحق نے مباہلہ کی بھی درخواست کی تھی لیکن اب ۱۳۷ تک میں نہیں سمجھ سکتا کہ ایسے اختلافی مسائل میں جن کی وجہ سے کوئی فریق کا فریا ظالم چلا سہو کتابت ہے ۱۸۸۸ء “ہونا چاہیے بمطابق روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۸۸ - ( ناشر ) الواقعة : ٨٠