ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 424 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 424

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۲۴۴ ازالہ اوہام حصہ دوم نازل ہونا قرآن اور حدیث سے ثابت نہیں ۔ لہذا یہ ا مرثابت ہے کہ رفع سے مراد اس جگہ موت ہے مگر ایسی موت جو عزت کے ساتھ ہو جیسا کہ مقربین کے لئے ہوتی ہے کہ ۲۰۰) بعد موت اُن کی روحیں علمین تک پہنچائی جاتی ہیں فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيْكَ مُقْتَدِرٍ (۳) تیسری آیت جو حضرت عیسی ابن مریم کے مرنے پر کھلی کھلی گواہی دے رہی ہے یہ ہے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِم ے یعنی جب تو نے مجھے وفات دی تو تو ہی اُن پر نگہبان تھا۔ ہم پہلے ثابت کر آئے ہیں کہ تمام قرآن شریف میں توفی کے معنی یہ ہیں کہ روح کو قبض کرنا اور جسم کو بیکار چھوڑ دینا جیسا کہ اللہ جلَّ شَانُهُ فرماتا ہے کہ قُلْ يَتَوَفُكُمْ مَّلَكُ الْمَوْتِ الَّذِي وُكِّلَ بِكُمْ " اور پھر فرماتا ہے وَلكِنْ أَعْبُدُ اللهَ الَّذِى يَتَوَفُسِكُمْ " اور پھر فرماتا ہے کہ حَتَّى يَتَوَفهُنَّ الْمَوْتُ اور پھر فرماتا ہے حَتَّى إِذَا جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا يَتَوَفَّوْنَهُمْ (الجز و نمبر ٨ سورة الاعراف ( ت اور پھر فرماتا ہے تَوَفَّتُهُ رسلناک ایسا ہی قرآن شریف کے تیس مقام میں برابر توقی کے معنے امانت اور قبض روح ہے لیکن افسوس کہ بعض علماء نے محض الحاد اور تحریف کی رو سے اس جگہ تَوَفَّيْتَنِی سے مراد رَفَعْتَنِی لیا ہے اور اس طرف ذرہ خیال نہیں کیا کہ یہ معنے نہ صرف لغت کے مخالف (۲۰) بلکہ سارے قرآن کے مخالف ہیں۔ پس یہی تو الحاد ہے کہ جن خاص معنوں کا قرآن کریم نے اول سے آخر تک التزام کیا ہے ان کو بغیر کسی قرینہ قویہ کے ترک کر دیا گیا ہے۔ توفی کا لفظ نہ صرف قرآن کریم میں بلکہ جابجا احادیث نبویہ میں بھی وفات دینے اور قبض روح کے معنوں پر ہی آتا ہے۔ چنانچہ جب میں نے غور سے صحاح ستہ کو دیکھا تو ہر یک جگہ جو توفی کا لفظ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلا ہے یا کسی صحابی کے منہ سے تو انہیں معنوں میں محدود پایا گیا۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ کسی ایک صحیح حدیث میں بھی کوئی ایسا توفی کا لفظ نہیں ملے گا جس کے کوئی اور معنے ہوں ۔ میں نے معلوم کیا ہے کہ اسلام میں القمر : ۵۶ المائدة : ١١٨ الاعراف : ۳۸ ك الانعام : ۶۲ السجدة :١٢ یونس : ۱۰۵ النساء : ١٦