ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 412
روحانی خزائن جلد ۳ ۴۱۲ ازالہ اوہام حصہ دوم نازل ہونا برابر ہے۔ ہر یک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اگر خدائے تعالیٰ صادق الوعد ہے اور جو آیت خاتم النبیین میں وعدہ دیا گیا ہے اور جو حدیثوں میں بتصریح بیان کیا گیا ہے کہ اب جبرائیل بعد وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کے لئے وحی نبوت لانے سے منع کیا گیا ہے یہ تمام باتیں سچ اور صحیح ہیں تو پھر کوئی شخص بحیثیت رسالت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ۵۷۸) ہرگز نہیں آسکتا لیکن اگر ہم فرض کے طور پر مان بھی لیں کہ مسیح ابن مریم زندہ ہو کر پھر دنیا میں آئے گا تو ہمیں کسی طرح اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ وہ رسول ہے اور بحیثیت رسالت آئے گا اور جبرئیل کے نزول اور کلام الہی کے اترنے کا پھر سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ جس طرح یہ بات ممکن نہیں کہ آفتاب نکلے اور اس کے ساتھ روشنی نہ ہو ۔ اسی طرح ممکن نہیں کہ دنیا میں ایک رسول اصلاح خلق اللہ کے لئے آوے اور اس کے ساتھ وحی الہی اور جبرائیل نہ ہو ۔ علاوہ اس کے ہر یک عاقل معلوم کر سکتا ہے کہ اگر سلسلہ نزول جبرائیل اور کلام الہی کے اترنے کا حضرت مسیح کے نزول کے وقت بکلی منقطع ہوگا تو پھر وہ قرآن شریف کو جو عربی زبان میں ہے کیوں کر پڑھ سکیں گے۔ کیا نزول فرما کر دو چار سال تک مکتب میں بیٹھیں گے اور کسی ملا سے قرآن شریف پڑھ لیں گے ۔ اگر فرض کر لیں کہ وہ ایسا ہی کریں گے تو پھر وہ بغیر وحی نبوت کے تفصیلات مسائل دینیہ مثلاً نماز ظہر کی سنت جو اتنی رکعت ہیں اور نماز مغرب کی سنت جو اتنی رکعات ہیں اور یہ کہ زکوۃ کن لوگوں پر فرض ہے۔ اور نصاب کیا ہے کیوں کر (۵۷۹) قرآن شریف سے استنباط کر سکیں گے۔ اور یہ تو ظاہر ہو چکا کہ وہ حدیثوں کی طرف رجوع بھی نہیں کریں گے۔ اور اگر وحی نبوت سے ان کو یہ تمام علم دیا جائے گا تو بلا شبہ جس کلام کے ذریعہ سے یہ تمام تفصیلات اُن کو معلوم ہوں گی وہ بوجہ وحی رسالت ہونے کے کتاب اللہ کہلائے گی ۔ پس ظاہر ہے کہ اُن کے دوبارہ آنے میں کس قدر خرابیاں اور کس قدر مشکلات ہیں ۔ مجملہ اُن کے یہ بھی کہ وہ بوجہ اس کے کہ وہ قوم کے قریشی نہیں ہیں کسی حالت میں امیر نہیں ہو سکتے ۔ ناچار اُن کو کسی دوسرے امام اور امیر کی بیعت کرنی پڑے گی ۔ بالخصوص جبکہ