ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 411 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 411

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۱۱ ازالہ اوہام حصہ دوم ہونے کے جناب ختم المرسلین کے وجود میں ہی داخل ہے جیسے جز کل میں داخل ہوتی ہے لیکن مسیح ابن مریم جس پر انجیل نازل ہوئی جس کے ساتھ جبرائیل کا بھی نازل ہونا ایک لازمی امر سمجھا گیا ہے کسی طرح اُمتی نہیں بن سکتا کیونکہ اُس پر اُس وحی کا اتباع فرض ہو گا جو وقتاً فوقتاً اس پر نازل ہوگی جیسا کہ رسولوں کی شان کے لائق ہے اور جب کہ وہ اپنی ہی وحی کا متبع ہوا (۵۷۶) اور جو نئی کتاب اس پر نازل ہوگی اُسی کی اُس نے پیروی کی تو پھر وہ امتی کیوں کر کہلائے گا۔ اور اگر یہ کہو کہ جو احکام اُس پر نازل ہوں گے وہ احکام قرآنیہ کے مخالف نہیں ہوں گے تو میں کہتا ہوں کہ محض اس تو ارد کی وجہ سے وہ اُمتی نہیں ٹھہر سکتا۔ صاف ظاہر ہے کہ بہت سا حصہ توریت کا قرآن کریم سے بکلی مطابق ہے تو کیا نعوذ باللہ اس تو ارد کی وجہ سے ہمارے سید و مولی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسیٰ کی اُمت میں سے شمار کئے جائیں گے ۔ تو ار د اور چیز ہے اور محکوم بن کر تا بعدار ہو جانا اور چیز ہے۔ ہم ابھی لکھ چکے ہیں کہ خدائے تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کوئی رسول دنیا میں مطیع اور محکوم ہو کر نہیں آتا بلکہ وہ مطاع اور صرف اپنی اس وحی کا متبع ہوتا ہے جو اس پر بذریعہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوتی ہے اب یہ سیدھی سیدھی بات ہے کہ جب حضرت مسیح ابن مریم نازل ہوئے اور حضرت جبرائیل لگا تار آسمان سے وحی لانے لگے اور وحی کے ذریعہ سے انہیں تمام اسلامی عقائد اور صوم اور صلوٰۃ اور زکوۃ اور حج اور جمیع مسائل فقہ کے سکھلائے گئے ۔ تو پھر بہر حال یہ مجموعہ احکام دین کا کتاب اللہ (۵۷۷) کہلائے گا۔ اگر یہ کہو کہ مسیح کو وحی کے ذریعہ سے صرف اتنا کہا جائے گا کہ تو قرآن پر عمل کر اور پھر وحی مدت العمر تک منقطع ہو جائے گی اور کبھی حضرت جبرئیل اُن پر نازل نہیں ہوں گے بلکہ وہ بکلی مسلوب النبوت ہو کر امتیوں کی طرح بن جائیں گے تو یہ طفلانہ خیال ہنسی کے لائق ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر چہ ایک ہی دفعہ وحی کا نزول فرض کیا جائے اور صرف ایک ہی فقرہ حضرت جبرئیل لاویں اور پھر چپ ہو جاویں یہ امر بھی ختم نبوت کا منافی ہے کیونکہ سب ختمیت کی مہر ہی ٹوٹ گئی اور وحی رسالت پھر نازل ہونی شروع ہوگئی تو پھر تھوڑایا بہت