ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 405 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 405

روحانی خزائن جلد ۳ ۴۰۵ ازالہ اوہام حصہ دوم کیونکہ پیشگوئیوں کے اوقات معینہ قطعی الدلالت نہیں ہوتے ۔ بسا اوقات ان میں ایسے استعارات بھی ہوتے ہیں کہ دن بیان کئے جاتے ہیں اور اُن سے برس مراد لئے جاتے ہیں ۔ پھر قاضی ثناء اللہ پانی پتی کے رسالہ سیف مسلول کا حوالہ دے کر لکھتے ہیں کہ رسالہ ﴿۵۲۲ مذکورہ میں لکھا ہے کہ علماء ظاہری اور باطنی کا اپنے خطن اور تمین سے اس بات پر اتفاق ہے کہ تیرھویں صدی کے اوائل میں ظہور مہدی کا ہوگا۔ پھر لکھتے ہیں کہ بعض مشائخ اپنے کشف سے یہ بھی کہہ گئے ہیں کہ مہدی کا ظہور بارہ سو برس سے پیچھے ہوگا اور تیرھویں صدی سے تجاوز نہیں کرئے گا۔ پھر لکھتے ہیں کہ یہ سال تو گذر گئے اور تیرھویں صدی سے صرف دس برس رہ گئے اور اب تک نہ مہدی نہ عیسی دنیا میں آئے ۔ یہ کیا ہوا ۔ پھر اپنی رائے لکھتے ہیں کہ میں بلحاظ قرائن قو یہ گمان کرتا ہوں کہ چودھویں صدی کے سر پر اُن کا ظہور ہوگا۔ پھر لکھتے ہیں کہ قرائن یہ ہیں کہ تیرھویں صدی میں دجالی فتنے بہت ظہور میں آگئے ہیں اور اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح نمودار ہورہے ہیں اور اس تیرھویں صدی کا فتن و آفات کا ایک مجموعہ ہونا ایک ایسا امر ہے کہ چھوٹے بڑے کی زبان پر جاری ہے۔ یہاں تک کہ جب ہم بچے تھے تو بڑھی عورتوں سے سنتے تھے کہ حیوانات نے بھی اس تیرھویں صدی سے پناہ چاہی ہے۔ پھر لکھتے ہیں کہ ہر چند یہ مضمون کسی صحیح حدیث سے ٹھیک ٹھیک معلوم نہیں ہوتا لیکن جب (۵۶۷) انقلاب عالم کا ملاحظہ کریں اور بنی آدم کے احوال میں جو فرق صریح آگیا ہے اس کو دیکھیں تو یہ ایک سچا گواہ اس بات پر ملتا ہے کہ پہلے اس سے دنیا کا رنگ اس عنوان پر نہیں تھا سو اگر چہ مکاشفات مشائخ کے پورے بھروسہ کے لائق نہیں کیونکہ کشف میں خطا کا احتمال بہت ہے لیکن کہہ سکتے ہیں کہ اب وہ وقت قریب ہے جو مہدی اور عیسی کا ظہور ہو کیونکہ امارات صغریٰ بجميعها وقوع میں آگئی ہیں اور عالم میں ایک تغیر عظیم پایا جاتا ہے اور اہل عالم کی حالت نہایت درجہ پر بدل گئی ہے اور کامل درجہ کا ضعف اسلام پر وارد ہو گیا ہے۔ اور وہ حقیقت نورانیہ جس کا نام علم ہے وہ دنیا سے اُٹھ گئی ہے اور جہل بڑھ گیا ہے