ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 387 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 387

روحانی خزائن جلد۳ ۳۸۷ ازالہ اوہام حصہ دوم بھیج دے۔ میں کہتا ہوں کہ اگر صرف قدرت کو دیکھنا ہے اور نصوص قرآنیہ سے کچھ غرض نہیں تو ظاہر ہے کہ قدرت خدائے تعالیٰ کی دونوں طور سے متعلق ہے چاہے تو زندہ کر کے بھیج دے اور چاہے تو ہرگز زندہ نہ کرے اور نہ دنیا میں بھیجے۔ اور دیکھنا تو یہ چاہیے کہ ان دونوں ﴿۵۳۴ طور کی قدرتوں میں سے اُس کے منشاء کے موافق کونسی قدرت ہے۔ سواد فی سوچ سے ظاہر ہوگا کہ یہ قدرت کہ جس کو ایک دفعہ مار دیا پھر خواہ نخواہ دوموتوں کا عذاب اس پر نازل کرے ہرگز اس کے منشاء کے موافق نہیں جیسا کہ وہ خود اس بارہ میں فرماتا ہے۔ فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ لے یعنی جس کو ایک دفعہ مار دیا پھر اُس کو دنیا میں نہیں بھیجے گا اور جیسا کہ صرف ایک موت کی طرف اشارہ کر کے فرماتا ہے لَا يَذُوقُوْنَ فِيهَا الْمَوْتَ إِلَّا الْمَوْتَةَ الأولى تسو یہ بات اس کے سچے وعدہ کے برخلاف ہے کہ مردوں کو پھر دنیا میں بھیجنا شروع کر دیوے اور کیوں کر ممکن تھا کہ خاتم النبیین کے بعد کوئی اور نبی اسی مفہوم تام اور کامل کے ساتھ جو نبوت تامہ کی شرائط میں سے ہے آ سکتا۔ کیا یہ ضروری نہیں کہ ایسے نبی کی نبوت تامہ کے لوازم جو وحی اور نزول جبرئیل ہے اس کے وجود کے ساتھ لازم ہونی چاہیے کیونکہ حسب تصریح قرآن کریم رسول اُسی کو کہتے ہیں جس نے احکام و عقائد دین جبرئیل کے ذریعہ سے حاصل کئے ہوں لیکن وحی نبوت پر تو تیرہ سو برس سے مہر لگ گئی ہے کیا یہ مہر اُس وقت ٹوٹ جائے گی۔ اور اگر کہو کہ مسیح ابن مریم نبوت تامہ سے معزول کر کے بھیجا (۵۳۵) جائے گا تو اس سزا کی کوئی وجہ بھی تو ہونی چاہیے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بے استحقاق معبود قرار دیا گیا تھا سو خدائے تعالیٰ نے چاہا کہ اس کی سزا میں نبوت سے اس کو الگ کر دیا جائے اور وہ زمین پر آکر دوسروں کے پیرو بنیں اوروں کے پیچھے نماز پڑھیں اور امام اعظم کی طرح صرف اجتہاد سے کام لیں ۔ اور حنفی الطریق ہو کر حنفی مذہب کی تائید کریں ۔ لیکن یہ جواب معقول نہیں ہے خدائے تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس الزام سے اُن کو بری کر دیا ہے اور ان کی نبوت کو ایک دائمی نبوت قرار دیا ہے ۔ الزمر :٤٣ الدخان : ۵۷