ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 379 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 379

روحانی خزائن جلد۳ ۳۷۹ ازالہ اوہام حصہ دوم دوسرے مہدی کی ضرورت ہی کیا ہے اور یہ صرف امامین موصوفین کا ہی مذہب نہیں بلکہ ابن ماجہ اور حاکم نے بھی اپنی صحیح میں لکھا ہے کہ لا مھدی الا عیسی یعنی بج عیسی کے اُس وقت کوئی مہدی نہ ہوگا۔ اور یوں تو ہمیں اس بات کا اقرار ہے کہ پہلے بھی کئی مہدی آئے ہوں اور ممکن ہے کہ آئندہ بھی آویں اور ممکن ہے کہ امام محمد کے نام پر بھی کوئی مہدی ظاہر ہو لیکن جس طرز سے عوام کے خیال میں ہے اس کا ثبوت پایا نہیں جاتا۔ چنانچہ یہ صرف ہماری ہی رائے نہیں اکثر محقق یہی رائے ظاہر کرتے آئے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ اچھا مہدی کا قصہ جانے دو لیکن یہ جو بار بار حدیثوں میں بیان کیا گیا ہے کہ عیسی آئے گا۔ مسیح ابن مریم نازل ہوگا۔ اِن صریح لفظوں کی کیوں تاویل کی جائے ۔ اگر اللہ جل شانہ کے علم اور ارادہ میں ابن مریم سے مراد ابن مریم نہیں تھا تو اس نے لوگوں کو دانستہ ان مشکلات میں کیوں ڈالا اور سیدھا کیوں یہ نہ کہہ دیا کہ کوئی مثیل مسیح آئے گا بلکہ (۵۲۰) کون سی ضرورت اس بات کی طرف داعی تھی جو ضرور مثیل مسیح آتا کوئی اور نہ آتا۔ اب کھلے کھلے لفظوں سے کیوں کر انکار کریں یہ انکار تو دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب ہے اور ۔ در پردہ اس انکار کے یہ معنے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی غلط ہے۔ لیکن واضح ہو کہ یہ تمام اوہام باطلہ ہیں۔ قرآن کریم اور احادیث میں بغرض آزمائش خلق اللہ ایسے ایسے استعارات کا مستعمل ہونا کوئی انوکھی اور بے اصل بات نہیں۔ اور پہلی کتابوں میں ایسے استعارات کی نظیر موجود ہے فَسْتَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ایلیا کے قصہ کو دیکھو جس کو یوحنا کہا گیا ہے ۔ جبکہ قرآن شریف نے قطعی اور یقینی طور پر ظاہر کر دیا کہ حضرت مسیح ابن مریم فوت ہو گئے ہیں تو اب اس سے بڑھ کر ضرورت تاویل کے لئے اور کیا قرینہ ہوگا ۔ مثلاً فرض کے طور پر بیان کرتا ہوں کہ ایک مستند خط کے ذریعہ سے معلوم ہوا کہ ایک شخص کلکتہ میں رہنے والا عبد الرحمن نام جس کی شہادت کسی مقدمہ کے لئے مؤثر تھی فوت ہو گیا ہے۔ پھر بعد اس کے ہم نے ایک ایسا کاغذ تمسک دیکھا جس پر النحل : ۴۴