ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 378 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 378

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۷۸ ازالہ اوہام حصہ دوم پورے طور پر ممالک مغربی میں طلوع کرے گا تو وہی لوگ اسلام سے محروم رہ جائیں گے جن پر دروازہ تو بہ کا بند ہے یعنی جن کی فطرتیں بالکل مناسب حال اسلام کے واقع نہیں ۔سوتو بہ کا دروازہ بند ہونے کے یہ معنے نہیں کہ لوگ تو بہ کریں گے مگر منظور نہ ہوگی ۔ اور خشوع اور خضوع سے روئیں گے مگر رد کئے جائیں گے کیونکہ یہ تو اس دنیا میں اس رحیم و کریم کی شان سے بالکل بعید ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اُن کے دل سخت ہو جائیں گے اور ان کو تو بہ کی توفیق نہیں دی جائے گی اور وہ وہی اشرار ہیں جن پر قیامت آئے گی۔ فتفکر و تدبر ۔ ایسا ہی مہدی کے بارہ میں جو بیان کیا جاتا ہے کہ ضرور ہے کہ پہلے امام محمد مہدی آویں ۵۱۸) اور بعد اس کے ظہور مسیح ابن مریم کا ہو۔ یہ خیال قلت تذبر کی وجہ سے پیدا ہوا ہے اگر مہدی کا آنا مسیح ابن مریم کے زمانہ کے لئے ایک لازم غیر منفک ہوتا اور مسیح کے سلسلہ ظہور میں داخل ہوتا تو دو بزرگوار شیخ اور امام حدیث کے یعنی حضرت محمد اسمعیل صاحب صحیح بخاری اور حضرت امام مسلم صاحب صحیح مسلم اپنی صحیحوں سے اس واقعہ کو خارج نہ رکھتے لیکن جس حالت میں انہوں نے اس زمانہ کا تمام نقشہ کھینچ کر آگے رکھ دیا اور حصر کے طور پر دعوی کر کے بتلا دیا کہ فلاں فلاں امر کا اس وقت ظہور ہو گا لیکن امام محمد مہدی کا نام تک بھی تو نہیں لیا ۔ پس اس سے سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی صحیح اور کامل تحقیقات کی رو سے اُن حدیثوں کو صحیح نہیں سمجھا جو مسیح کے آنے کے ساتھ مہدی کا آنا لازم غیر منفک ٹھہرا رہی ہیں اور در اصل یہ خیال بالکل فضول اور مہمل معلوم ہوتا ہے کہ باوجود یکہ ایک ایسی شان کا آدمی ہو کہ جس کو باعتبار باطنی رنگ اور خاصیت اس کی کے مسیح ابن مریم کہنا چاہیے دنیا میں ظہور کرے اور پھر اس کے ساتھ کسی دوسرے مہدی کا آنا بھی ضروری ہو ۔ کیا وہ خود مہدی نہیں ہے؟ کیا وہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہدایت پا کر نہیں آیا ؟ کیا اُس کے پاس اس قدر ۵۱۹ جواہرات وخزائن و اموال معارف و دقائق نہیں ہیں کہ لوگ لیتے لیتے تھک جائیں اور اس قدراُن کا دامن بھر جائے جو قبول کرنے کی جگہ نہ رہے ۔ پس اگر یہ سچ ہے تو اُس وقت