ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 374 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 374

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۷۴ ازالہ اوہام حصہ دوم اپنے اندر نہیں رکھتیں اور آخری زمانہ میں پورے جوش اور طاقت کے ساتھ ظہور کریں گی ۔ خروج کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ایسا ہی اُس شخص کے بارے میں جو حدیثوں میں لکھا ہے کہ آسمانی وحی اور قوت کے ساتھ ظہور کرے گا نزول کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ سو ان دونوں لفظوں خروج اور نزول میں در حقیقت ایک ہی امر مد نظر رکھا گیا ہے یعنی اس بات کا سمجھانا منظور ہے کہ یہ ساری چیزیں جو آخری زمانہ میں ظاہر ہونے والی ہیں باعتبار اپنی قوتِ ظہور کے خروج اور نزول کی صفت سے متصف کی گئی ہیں جو آسمانی قوت کے ساتھ آنے والا تھا اس کو نزول کے لفظ سے یاد کیا گیا اور جو زمینی قوت کے ساتھ نکلنے والا تھا اس کو خروج کے لفظ کے ساتھ پکارا گیا تا نزول کے لفظ سے آنے والے کی ایک عظمت سمجھی جائے اور خروج کے لفظ سے ایک خفت اور حقارت ثابت ہو اور نیز یہ بھی معلوم ہو کہ نازل خارج پر غالب ہے۔ ایسا ہی دخان جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے کچھ آخری زمانہ سے ہی خاص نہیں ہے ہاں آخری زمانہ میں جو ہمارا زمانہ ہے اس کا تین اور کھلے کھلے طور پر ظہور ہوا ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے حم وَالْكِتَبِ الْمُبِينِ إِنَّا اَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةٍ مُبرَكَةٍ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ أَمْرًا مِنْ عِنْدِنَا إِنَّا كُنَّا مُرْسِلِينَ رَحْمَةً مِن رَّبِّكَ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ رَبِّ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا إن كُنتُم مُّوْقِنِينَ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يخي وَيُمِيتُ وَرَبُّ ابا بِكُمُ الْأَوَّلِينَ بَلْ هُمْ فِي شَكٍ يَلْعَبُونَ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانِ مُّبِينٍ يَخْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ کے سورة الدخان الجز و نمبر ۲۵ یعنی اس روشن اور کھلی کھلی کتاب کی قسم ہے کہ ہم نے اس قرآن کریم کو ایک مبارک رات میں اُتارا ۵۳ ہے کیونکہ ہمیں منظور تھا کہ نافرمانی کے نتائج سے ڈراویں۔ وہ رات ایک ایسی بابرکت رات ہے کہ تمام حکمت کی باتیں اس میں کھولی جاتی ہیں اور ایسا ہی ہم نے چاہا ہے اور تیرے الدخان : ۲ تا ۱۳