ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 373 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 373

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۷۳ ازالہ اوہام حصہ دوم دجال اُسی دجال کے رنگ میں ہو کر قوت کے ساتھ خروج کر رہا ہے اور گو یا مثالی اور ظلی وجود کے ساتھ وہی ہے اور جیسا کہ وہ اول زمانہ میں گر جا میں جکڑا ہوا نظر آیا تھا اب وہ اس بند سے مخلصی پا کر عیسائیوں کے گر جاسے ہی نکلا ہے اور دنیا میں ایک آفت بر پا کر رہا ہے۔ ایسا ہی یا جوج ماجوج کا حال بھی سمجھ لیجئے۔ یہ دونوں پرانی قومیں ہیں جو پہلے زمانوں میں دوسروں پر کھلے طور پر غالب نہیں ہو سکیں اور اُن کی حالت میں ضعف رہا لیکن خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ آخری زمانہ میں یہ دونوں قو میں خروج کریں گی یعنی اپنی جلالی قوت کے ساتھ ظاہر ہوں گی جیسا کہ سورہ کہف میں فرماتا ہے وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَبِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ یعنی یہ دونوں تو میں دوسروں کو مغلوب کر کے پھر ایک دوسرے پر حملہ کریں گی اور جس کو خدائے تعالیٰ چاہے گا فتح دے گا۔ چونکہ ان دونوں قوموں سے مراد انگریز اور روس ہیں اس لئے ﴿۵۰﴾ ہر یک سعادتمند مسلمان کو دعا کرنی چاہیے کہ اُس وقت انگریزوں کی فتح ہو کیونکہ یہ لوگ ہمارے محسن ہیں۔ اور سلطنت برطانیہ کے ہمارے سر پر بہت احسان ہیں ۔ سخت جاہل اور سخت نادان اور سخت نالائق وہ مسلمان ہے جو اس گورنمنٹ سے کینہ رکھے اگر ہم ان کا شکر نہ کریں تو پھر ہم خدائے تعالیٰ کے بھی ناشکر گزار ہیں کیونکہ ہم نے جو اس گورنمنٹ کے زیر سایہ آرام پایا اور پارہے ہیں وہ آرام ہم کسی اسلامی گورنمنٹ میں بھی نہیں پا سکتے۔ ہر گز نہیں پا سکتے۔ ایسا ہی دابتہ الارض یعنی وہ علماء و واعظین جو آسمانی قوت اپنے اندر نہیں رکھتے ابتدا سے (۵۱۰ چلے آتے ہیں لیکن قرآن کا مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں ان کی حد سے زیادہ کثرت ہوگی اور اُن کے خروج سے مراد وہی اُن کی کثرت ہے۔ اور یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ جیسی ان چیزوں کے بارے میں جو آسمانی قوت الكهف :٩٩