ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 372
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۷۲ ازالہ اوہام حصہ دوم کوشش کر کے نئی دنیا کا سراغ لگا ہی لیا۔ آپ اس ایک ناکارہ کام میں ہی کامیابی دکھلائیے شاید ان لوگوں میں سے کسی کا پتہ چلے بہرکارے کہ ہمت بسته گردد ۔ اگر خارے بود گلدسته گردد ۔ اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو پھر خیر اس میں ہے کہ ان بیہودہ خیالات سے باز آجائیں ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسمیں کھا کر فرمایا ہے کہ کوئی جاندار اس وقت سے سو برس تک زمین پر زندہ نہیں رہ سکتا ۔ مگر آپ ناحق ان سب جانداوں کو اس زمانہ سے آج تک زندہ خیال کر رہے ۔ بال کر رہے ہیں ۔ یہ حقیق ا یہ تحقیق اور تدقیق کا زمانہ ہے اسلام کا ایسا خاکہ کھینچ کر نہ دکھلائیے جس پر بچہ بچہ ہنسی کرے۔ غور کر کے سوچئے کہ یہ کروڑ ہا انسان جو صد ہا برسوں سے زندہ فرض کئے گئے ہیں جو اب تک مرنے میں نہیں آتے کس ملک اور ۵۰۷ کس شہر میں رہتے ہیں ۔ تعجب کہ معمورۂ دنیا کی حقیقت بخوبی کھل گئی اور پہاڑوں اور جزیروں کا حال بھی بخوبی معلوم ہو گیا اور تفتیش کرنے والوں نے یہاں تک اپنی تفتیش کو کمال تک پہنچادیا جو ایسی آبادیاں جو ابتداء دنیا سے معلوم نہ تھیں وہ اب معلوم ہوگئیں مگر اب تک اس جساسہ اور دجال اور ابن صیاد مفقود الخبر اور دابۃ الارض اور یا جوج ماجوج کے کروڑہا انسانوں کا کچھ پتہ نہیں ملتا ۔ سواے حضرات ! یقیناً سمجھو کہ وہ سب جاندار جو انسان کی قسم میں سے تھے اس دنیا سے کوچ کر گئے پردہ زمین میں چھپ گئے اور مسلم کی سو برس والی حدیث نے اپنی جلالی سچائی سے موت کا مزہ اُنہیں چکھا دیا۔ اب ان کی انتظار آپ کی خام خیالی ہے ۔ اب تو انا اللہ کہہ کر ان کو رخصت شدہ سمجھتے ۔ اور اگر آپ کے دل میں یہ خلجان گذرے کہ احادیث نبویہ میں اُن کے خروج کا وعدہ ہے اس کے اس صورت میں کیا معنے ہوں گے ۔ سوسنو ! اس کے سچے معنے جو اللہ جل شانه نے میرے پر ظاہر کئے ہیں وہ یہ ہیں کہ ان سب چیزوں کا آخری زمانہ میں جلالی طور پر صور مثالیہ میں ظہور مراد ہے مثلاً پہلے دجال کو اس طرح پر دیکھا گیا کہ وہ زنجیروں میں ۵۰۸ جکڑا ہوا کمزور اور ضعیف ہے کسی پر حملہ نہیں کر سکتا مگر اس آخری زمانہ میں عیسائی مشن کا