ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 371
روحانی خزائن جلد ۳ ازالہ اوہام حصہ دوم اشارہ ہو کہ یہ چیزیں جو آخری زمانہ میں ظہور پذیر ہوں گی وہ ابتدائی زمانوں میں بکلی معدوم نہیں ہوں گی بلکہ اپنے وجود نوعی یا مثالی کے ساتھ جو آخری وجود کا ہم رنگ اور مماثل ہوگا پہلے بھی بعض افراد میں ان کا وجود متحقق ہوگا لیکن وہ وجود ایک ضعف اور کمزوری اور نا کامی کی حالت میں ہوگا مگر دوسرا وجود جس کو خروج کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے اس میں ایک جلالی حالت ہوگی یعنی پہلے وجود کی طرح ضعف اور کمزوری نہیں ہوگی اور ایک طاقت کے ساتھ اس کا ظہور ہوگا جس کے اظہار کے لئے خروج کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اسی بنا پر مسلمانوں میں یہ خیال چلا آتا ہے کہ مسیح دجال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے موجود ہے اور پھر اُن (۵۰۵) کے خیالات میں ایسی غلطی پک گئی ہے کہ اب تک مسیح ابن مریم کی طرح اس کو زندہ سمجھا ہوا ہے جو کسی جزیرہ میں مقید اور جکڑا ہوا ہے اور اس کی جساسہ بھی اب تک زندہ ہے جو اس کو خبر میں پہنچا رہی ہے افسوس کہ یہ لوگ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں غلط نہی کر کے کیسی مصیبتوں میں پھنس گئے ۔ ایسا ہی یہ لوگ یا جوج ماجوج کو بھی وجود شخصی کے ساتھ زندہ سمجھتے ہیں یعنی بقاء شخصی کے قائل ہیں۔ اب جبکہ دجال اور اس کی جساسہ اور یا جوج ماجوج کے کروڑہا آدمی اور دابتہ الارض اور بقول بعض ابن صیاد بھی اب تک زندہ ہیں تو حضرت مسیح اگر زندہ نہ ہوں تو ان کی حق تلفی ہے۔ میرے نزدیک بہت سہل طریق ثبوت کا یہ ہے کہ مولوی صاحبان کوشش کر کے کوئی یا جوج ماجوج کا آدمی یا دجال کی جساسہ یا ابن صیاد کو ہی کسی جنگل سے پکڑ کر لے آویں پھر کیا بات ہے سب مان جائیں گے کہ اسی طرح حضرت مسیح بھی آسمان پر زندہ ہیں اور مفت میں فتح ہو جائے گی ۔ حضرات ! اب ہمت کیجئے کہیں سے دجال شریر کی جساسہ کو ہی پکڑئیے حوصلہ نہ ہاریں آخر یہ سب زمین پر ہی ہیں ۔ ابن تمیم کی حدیث کو مسلم (۵۰۶) میں پڑھ کر اسی پتہ سے جساسہ دجال کا سراغ لگائیے یا خبیث دجال کو ہی جوز نجیروں میں جکڑا ہوا ہے چشم خود دیکھ کر پھر اوروں کو دکھلائیے۔ بات تو خوب ہے۔ انگریزوں نے ہمت اور