ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 348
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۴۸ ازالہ اوہام حصہ دوم مسیح کے اُترنے کے لئے دعا منظور نہ ہو تو صاف ثابت ہوگا کہ وہ دعا تحصیل حاصل میں داخل ہے اسی وجہ سے منظور نہیں ہوئی۔ ہمارے دوست مولوی ! ابو سعید محمد حسین صاحب اپنے ایک خط میں لکھتے ہیں کہ میں عقلی طور پر اس امر (وفات مسیح ) کو ثابت کر دکھاؤں گا مگر کچھ معلوم نہیں ہوا کہ مولوی صاحب کی عقلی طور سے کیا مراد ہے۔ کیا بیلون میں آسمان کی طرف چڑھ کر ناظرین کو کوئی تماشہ دکھانا چاہتے ہیں۔ حضرت مولوی صاحب کو لازم صاحب کو لازم ہے کہ عقلی طور کا نام نہ لیں تا نئے فلسفہ والے ان ۲۶۴ کے گرد نہ ہو جائیں بلکہ یہ کہا کریں کہ جو شخص عقل کا نام لے وہ کافر ہے۔ اگر کوئی دن ایسے ہی اعتقاد کے ساتھ گزارہ کرنا ہے تو بجز تکفیر کے اور کوئی کار آمد حربہ نہیں لیکن ہمارا تو اس بات پر ایمان ہے کہ خدائے تعالیٰ نے انسان کے وجود میں عقل کو بھی بیکار پیدا نہیں کیا اور اگر مسلمانوں کے دو فریق میں سے جو کسی جزئی مسئلہ پر جھگڑتے ہیں اور باہم اختلاف رکھتے ہیں ایک فریق ایسا ہے کہ علاوہ دلائل شرعی اور نصوص قرآن اور حدیث کے عقل کو بھی اپنے ساتھ رکھتا ہے تو بلا شبہ وہی فریق سچا ہے کیونکہ اس کی تائید دعوی کے لئے گواہ بہت ہیں ۔ سواب دیکھنا چاہیے کہ مسیح کی وفات کے بارے میں کیسے قرآن کریم اور حدیث اور عقل اور تجربہ ہمارا موید ہو رہا ہے لیکن ہمارے مخالفین کو ان تمام شواہد میں سے کوئی مدد نہیں دیتا۔ قرآن کریم کے سامنے جاتے ہیں تو قرآن کریم کہتا ہے کہ چل دور ہو۔ میرے خزانہ حکمت میں تیرے خیال کے لئے کوئی مؤید بات نہیں۔ پھر وہاں سے محروم ہو کر حدیثوں کی طرف آتے ہیں تو حدیثیں کہتی ہیں کہ اے سرکش قوم یکجائی نظر سے ہمیں دیکھ اور مومن ببعض اور کافر بعض نہ ہو ۳۶۵ تا تجھے معلوم ہو کہ میں قرآن کریم کے مخالف نہیں ۔ پھر حدیثوں سے نومید ہو کر سلف و خلف کے اقوال متفرقہ کی طرف آتے ہیں تو اُن کو کسی ایک خاص شق پر قائم نہیں دیکھتے بلکہ تفسیروں کو رطب و یابس کا ذخیرہ پاتے ہیں اور جب دیکھنا چاہتے ہیں کہ مبسوط تفسیروں میں