ازالہ اَوہام حصہ دوم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 347 of 748

ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 347

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۴۷ ازالہ اوہام حصہ دوم ہونے کی وجہ سے مباہلہ کے لئے نہیں بلاتے کیونکہ اگر اختلافات با ہمی کی وجہ سے مسلمانوں کا باہم مباہلہ جائز ہو تو اس کا نتیجہ یہ ہو کہ مسلمانوں پر عذاب نازل ہونا شروع ہو جائے اور بجز کسی خاص فرد کے جو بکلی خطا سے خالی ہو تمام مسلمان نیست و نابود کئے جائیں۔ سو (۴۶۲) خدائے تعالیٰ کا یہ ارادہ نہیں اس لئے صرف اختلافات کی بناء پر مباہلہ بھی جائز نہیں ۔ ہاں اگر ہمارے مخالف اپنے تئیں سچ پر سمجھتے ہیں اور اس بات پر سچ سچ یقینی طور پر ایمان رکھتے ہیں کہ در حقیقت وہی مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہوگا جس پر انجیل نازل ہوئی تھی تو اس فیصلہ کے لئے ایک یہ بھی عمدہ طریق ہے کہ وہ ایک جماعت کثیر جمع ہو کر خوب تضرع اور عاجزی سے اپنے مسیح موہوم کے اترنے کے لئے دعا کریں۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ جماعت صادقین کی دعا قبول ہو جاتی ہے بالخصوص ایسے صادق کہ جن میں ملہم بھی ہوں ۔ پس اگر وہ بچے ہیں تو ضرور مسیح اُتر آئے گا اور وہ دعا بھی ضرور کریں گے اور اگر وہ حق پر نہیں اور یادر ہے کہ وہ ہرگز حق پر نہیں ہیں تو دعا بھی ہرگز نہیں کریں گے کیونکہ وہ دلوں میں یقین رکھتے ہیں کہ دعا قبول نہیں ہوگی ۔ ہاں ہماری اس درخواست کو کچے بہانوں سے ٹال دیں گے تا ایسا نہ ہو کہ رُسوائی اُٹھانی پڑے۔ اور اگر کوئی کہے کہ اہل حق کی دعا اہل باطل کے مقابل پر قبول ہونی ضروری نہیں ورنہ لازم آتا ہے کہ ہندؤں کے مقابل پر مسلمانوں کی دعا قیامت کے بارہ میں قبول ہو کر ابھی قیامت آجائے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ مقرر ہو چکا ہے کہ قیامت سات ہزار برس (۴۶۳) گذرنے سے پہلے واقع نہیں ہو سکتی۔ اور ضرور ہے کہ خدا اسے روکے رہے جب تک وہ ساری علامتیں کامل طور پر ظاہر نہ ہو جائیں جو حدیثوں میں لکھی گئی ہیں لیکن مسیح کے ظہور کا وقت تو یہی ہے جس کی نسبت اُس مولوی مرحوم نے بھی شہادت دی ہے جس کا مجدد ہونا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی تصدیق کر چکے ہیں اور وہ تمام علامتیں بھی پیدا ہوگئی ہیں جن کا صحیح کے وقت پیدا ہونا ضروری تھا جیسا کہ اس رسالہ میں ہم نے ثابت کر دیا ہے۔ پھر اگر اب بھی