ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 331
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۳۱ ازالہ اوہام حصہ دوم جس سے ثابت ہوا کہ وفات پہلے ہوئی اور رفع بعد از وفات ہوا۔ اور پھر اور ثبوت یہ ہے کہ اس پیشگوئی میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے کہ میں تیری وفات کے بعد تیرے متبعین کو تیرے مخالفوں پر جو یہودی ہیں قیامت کے دن تک غالب رکھوں گا ۔ اب ظاہر ہے اور تمام عیسائی اور مسلمان اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ یہ پیشگوئی حضرت مسیح کے بعد اسلام کے ظہور تک بخوبی پوری ہو گئی کیونکہ خدائے تعالیٰ نے یہودیوں کو اُن (۴۳۶ لوگوں کی رعیت اور ماتحت کر دیا جو عیسائی یا مسلمان ہیں اور آج تک صد ہا برسوں سے وہ ماتحت چلے آتے ہیں یہ تو نہیں کہ حضرت مسیح کے نزول کے بعد پھر ماتحت ہوں گے۔ ایسے معنے تو بہ ہداہت فاسد ہیں ۔ دیکھنا چاہیے کہ قرآن شریف میں یہ بھی آیت ہے جو حضرت مسیح کی زبان سے اللہ جل شانہ فرماتا ہے وَأَوْطَنِى بِالصَّلوةِ وَالزَّكُوةِ مَا دُمْتُ حَيًّا وَ بَرًّا بِوَالِدَتِي یعنی حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے نماز پڑھتا رہ اور زکوۃ دیتا رہ اور اپنی والدہ پر احسان کرتا رہ جب تک تو زندہ ہے۔ اب ظاہر ہے کہ ان تمام تکلیفات شرعیہ کا آسمان پر بجالانا محال ہے۔ اور جو شخص مسیح کی نسبت یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ وہ زندہ مع جسدہ آسمان کی طرف اٹھایا گیا اس کو اس آیت موصوفہ بالا کے منشاء کے موافق یہ بھی ماننا پڑے گا کہ تمام احکام شرعی جوانجیل اور توریت کی رو سے انسان پر واجب العمل ہوتے ہیں وہ حضرت مسیح پر اب بھی واجب ہیں حالانکہ یہ تکلیف ما لا بطاق ہے۔ عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ یہ حکم دیوے کہ اے عیسی جب تک تو زندہ ہے تیر کے پر واجب ہے کہ تو اپنی والدہ کی خدمت کرتا رہے اور پھر آپ ہی اس (۳۳۷) کے زندہ ہونے کی حالت میں ہی اس کو والدہ سے جدا کر دیوے اور تا بحیات زکوۃ کا حکم دیوے اور پھر زندہ ہونے کی حالت میں ہی ایسی جگہ پہنچا دے جس جگہ نہ وہ آپ زکوۃ دے سکتے ہیں اور نہ زکوۃ کے لئے کسی دوسرے کو نصیحت کر سکتے ہیں اور صلوٰۃ کے لئے ا مریم ۳۳۳۲: