ازالہ اَوہام حصہ دوم — Page 329
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۲۹ ازالہ اوہام حصہ دوم شہادت دے رہی ہے۔ جس قدر دنیا میں عقلمند ہیں یا ایسے زاہد جن کے دل در حقیقت اس پاک سلسلے سے بے نصیب ہیں اُن کے چال چلن اور ان کا اخلاقی انقباض اور اُن کے سفلی خیالات اور ان کی سب شرمناک کارستانیاں اس میرے بیان پر شاہد ہیں کہ وہ بغیر اس چشمہ طیبہ کے کس قدر قابل کراہت کثافتوں میں مبتلا ہیں اور جس طرح گندے کنوئیں کے پانی کے ایک قطرہ سے اس کی تمام کثافت ثابت ہو جاتی ہے اسی طرح اُن کے گندے خیالات اپنے بُرے نمونہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ اگر چہ ایسے لوگوں کی فلاسفی عام خیالات میں ہل چل مچانے والی ہو مگر چونکہ بچی روشنی اس کے ساتھ نہیں اس لئے وہ جلد اور بہت جلد اپنی ظلمت دکھا دیتی ہے اور با وجود تمام لاف و گزاف ہمہ دانی کے ایسے لوگوں کی اندرونی حالت ہاتھ پھیلا پھیلا کر اپنی مفلسی ظاہر کرتی رہتی ہے اور بسا اوقات روحانی تشفی کے نہ ملنے کی وجہ سے ایسے فلاسفروں اور حکیموں اور مولویوں اور ۴۳۳ فاضلوں سے ایسی حرکتیں صادر ہو جاتی ہیں جن سے صاف شہادت ملتی ہے کہ وہ تسلی بخش چشمہ سے کیسے اور کس قدر دور و مجور ہیں اور کیونکر حقیقی خوشحالی کے نہ پانے کے سبب سے ایک عذاب الیم یا یوں کہو کہ ایک درد اور جلن اور بے چینی میں دن رات مبتلا ہیں۔ اس جگہ بعض دلوں میں بالطبع یہ اعتراض پیدا ہوگا کہ اکثر لوگ الہام کا دعویٰ کرتے ہیں بلکہ فقرات الہامیہ سناتے بھی رہتے ہیں لیکن اُن کی معرفت میں کچھ بھی ترقی نظر نہیں آتی اور معمولی بشریت سے اُن کی عرفانی حالت کا درجہ بڑھا ہوا معلوم نہیں دیتا بلکہ وہی موٹی سمجھ اور سطحی خیالات اور فطرتی تاریکی اور پستی اُن میں دکھائی دیتی ہے اور اُن کے اخلاقی یا ذہنی یا روحانی قومی میں کوئی امر عام عادت سے بڑھ کر نظر نہیں آتا ۔ پھر کیونکر ایسے لوگوں کو ہم ملہم سمجھیں اور اس چشمہ فیض کا ہم کلام مان لیو میں جس کے قرب اور شرف مکالمت سے خارق عادت تبدیلی پیدا ہو جانا ضروری ہے ۔ کم سے کم اس قد رتبدیلی کہ بعض باتیں