ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 320 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 320

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۲۰ ازالہ اوہام حصہ اول کے یہ معنے کئے تو کہاں سے سمجھا گیا کہ پہلے معنوں سے انکار کیا ہے۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ خیر القرون نہیں کہلاتا ؟ کیا اس زمانہ کی عبادات ثواب میں بڑھ کر نہیں تھیں ؟ کیا اُس زمانہ میں نصرت دین کے لئے فرشتے نازل نہیں ہوتے تھے ؟ کیا روح الامین نازل نہیں ہوتا تھا ؟ پس ظاہر ہے کہ لیلۃ القدر کے تمام آثار وانوار و برکات اُس زمانہ میں موجود تھے ایک ۲۲۱) ظلمت بھی موجود تھی جس کے دُور کرنے کے لئے یہ انوار و ملائک اور روح الامین اور طرح طرح کی روشنی نازل ہورہی تھی۔ پھر اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مقدس زمانہ کا نام بھی الہام الہی سے لیلۃ القدر ظاہر کیا گیا تو اس سے کونسی قباحت لازم آگئی ؟ جو شخص قرآن شریف کے ایک معنی کو مسلم رکھ کر ایک دوسرا لطیف نکتہ اس کا بیان کرتا ہے تو کیا اس کا نام ملحد رکھنا چاہیے؟ اس خیال کے آدمی بلا شبہ قرآن شریف کے دشمن اور اس کے اعجاز کے منکر ہیں۔ (۱۰) سوال۔ ملائک اور جبرئیل علیہ السلام کے وجود سے انکار کیا ہے اور ان کو تو ضیح مرام میں صرف کواکب کی قوتیں ٹھہرایا ہے۔ اما الجواب ۔ یہ آپ کا دھوکا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ عاجز ملائک اور حضرت جبرائیل کے وجود کو اُسی طرح مانتا ہے جس طرح قرآن اور حدیث میں وارد ہے اور جیسا کہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کی رو سے ملائک کے اجرام سماوی سے خادمانہ تعلقات پائے جاتے ہیں یا جو جو کام خاص طور پر انہیں سپر د ہورہا ہے اس کی تشریح رسالہ توضیح مرام میں ہے۔ چو بشنوی سخن اهل دل مگو که خطا است سخن شناس نه دلبرا خطا اینجا است (۱۱) سوال ۔ رسالہ فتح اسلام میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ (۲۲) اما الجواب ۔ نبوت کا دعویٰ نہیں بلکہ محدثیت کا دعوی ہے جو خدائے تعالیٰ کے حکم سے کیا گیا ہے۔ اور اس میں کیا شک ہے کہ محدثیت بھی ایک شعبہ قویہ نبوت کا اپنے اندر رکھتی ہے۔ جس حالت میں رویائے صالحہ نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے