ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 319 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 319

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۱۹ ازالہ اوہام حصہ اول اما الجوب۔ پس واضح ہو کہ خدائے تعالیٰ نے تو قرآن کریم میں اس عقیدہ کی تکذیب کر دی جبکہ بیان کر دیا کہ در حقیقت مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور پھر مسیح کے دوبارہ زندہ ہونے کا کہیں ذکر نہیں کیا اور حدیثوں میں بھی اس مدعا کے بارہ میں کہیں قرآن شریف کی مخالفت نہیں کی گئی۔ ایک حدیث بھی ایسی نہیں ملے گی جو مسیح ابن مریم کا زندہ بجسده العنصری آسمان کی طرف اُٹھائے جانا بیان کرتی ہو ۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس عقیدہ کی تکذیب کرنے میں کچھ فرق نہیں رکھا۔ آنے والے مسیح کو اُمتی ٹھہرایا۔ حلیہ اول و آخر میں اختلاف ڈال دیا اور مسیح کا فوت ہو جانا بیان کر دیا۔ سو اس قدر بیان کافی تھا۔ اور چونکہ پیشگوئیوں میں خلق اللہ کے ابتلا کے لئے یہ بھی منظور ہوتا ہے کہ کچھ کیفیت اُن کی پوشیدہ رکھی جائے اس لئے کسی قدر پوشیدہ بھی رکھا گیا تا وقت پر صادقوں اور کا ذبوں کا امتحان ہو جائے۔ اور یہ بیان بھی صحیح نہیں ہے کہ عیسائیوں کا متفق علیہ یہی عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح دنیا میں پھر آئیں گے کیونکہ بعض فرقے اُن کے حضرت مسیح کے فوت ہو جانے کے قائل ہیں۔ اور حواریوں کی دونوں انجیلوں نے یعنی متی اور یوحنا نے اس بیان کی ہرگز تصدیق نہیں کی کہ مسیح در حقیقت آسمان پر اٹھایا گیا۔ ہاں مرقس اور لوقا کی انجیل میں لکھا ہے مگر وہ حواری نہیں ہیں اور نہ کسی حواری کی روایت سے انہوں نے لکھا۔ (۹) سوال۔ لیلۃ القدر کے اور معنی کر کے نیچریت اور باطنیت کا دروازہ کھول دیا ہے۔ اما الجواب ۔ معترض صاحب نے اس اعتراض سے لوگوں کو دھوکا دیا ہے اس جگہ اصل حقیقت یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس عاجز پر ظاہر کیا ہے کہ پہلے معنے لیلۃ القدر کے جو علماء کرتے ہیں وہ بھی مسلم اور بجا ہیں اور ساتھ اُن کے یہ بھی معنے ہیں ۔ اور ان دونوں میں کچھ منافات نہیں ۔ قرآن شریف ظہر بھی رکھتا اور بطن بھی اور صدہا معارف اس کے اندر پوشیدہ ہیں ۔ پس اگر اس عاجز نے تفہیم الہی سے لیلۃ القدر