ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 315

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۱۵ ازالہ اوہام حصہ اول اب ایک مدت دراز کے بعد اپنے خاص الہام سے ظاہر فرمایا کہ یہ وہی عیسی ہے جس کے آنے کا وعدہ تھا۔ برابر دین ابرس تک لوگ اس نام کو کتاب براہین میں پڑھتے رہے اور خدائے تعالی نے دس برس تک اس دوسرے الہام کو جو پہلے الہام کے لئے بطور تشریح تھا پوشیدہ رکھا تا اس کے پر حکمت کام ایک غور کرنے والے کی نظر میں بناوٹ سے مصفی ثابت ہو جائیں کیونکہ بناوٹ کا سلسلہ اس قدر لمبا نہیں ہو سکتا جس کی بنیاد ایک طول طویل مدت سے پہلے ہی رکھی گئی ہو۔ فتدبروا یا اولوالابصار۔ (۷) سوال۔ یہ جو بیان کیا گیا ہے کہ ممکن ہے کہ اور مثیل مسیح بھی آویں تو کیا اُن میں سے موعود ایک ہی ہے جو آپ ہیں یا سب موعود ہوں گے اور کن کن کو ہم سچا موعود تسلیم کریں؟ اما الجواب ۔ پس واضح ہو کہ وہ مسیح موعود جس کا آنا انجیل اور احادیث صحیحہ کے رو سے ﴿۴۱۴ ضروری طور پر قرار پا چکا تھا وہ تو اپنے وقت پر اپنے نشانوں کے ساتھ آگیا اور آج وہ وعدہ پورا ہو گیا جو خدائے تعالیٰ کی مقدس پیشگوئیوں میں پہلے سے کیا گیا تھا لیکن اگر کسی کے دل میں یہ خلجان پیدا ہو کہ بعض احادیث کی اس آنے والے مسیح کی حالت سے بظاہر مطابقت معلوم نہیں ہوتی جیسے مسلم کی دمشقی حدیث ۔ تو اول تو اس کا یہی جواب ہے کہ در حقیقت یہ سب استعارات ہیں اور مکاشفات میں استعارات غالب ہوتے ہیں۔ بیان کچھ کیا جاتا ہے اور مراد اُس سے کچھ لیا جاتا ہے۔ سو یہ ایک بڑا دھوکہ اور غلطی ہے جو اُن کو ظاہری طور پر مطابق کرنے کے لئے کوشش کی جائے اور یا اس تر ڈر اور فکر اور حیرت میں اپنے تئیں ڈال دیا جائے کہ کیوں یہ نشانیاں ظاہری طور پر مطابق نہیں آتیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ان حدیثوں کی تشریح کے وقت فریق مخالف کو بھی اکثر مقامات میں تاویلوں کی حاجت پڑی ہے اور بڑے تکلف کے ساتھ تاویلیں کی ہیں جیسے مسیح ابن مریم کا یہ عمدہ کام جو بیان کیا گیا ہے جو وہ دنیا میں آکر خنزیروں کو قتل کرے گا ۔ دیکھنا چاہیے کہ اس کی تشریح میں علماء نے کس قدر الفاظ کو ظاہر سے باطن کی طرف پھیرنے کے لئے کوشش کی ہے۔