ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 313 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 313

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۱۳ ازالہ اوہام حصہ اول وفات کا ذکر ہے اپنی طرف سے اور اور معنے گھڑتے ہیں ۔ اب دیکھنا چاہیے کہ خواہر نصوص سے انہوں نے منہ پھیرا یا ہم نے ؟ ہاں ابن مریم کے نزول سے جو حدیثوں میں آیا ہے ہمارے نزدیک در حقیقت ابن مریم مراد نہیں ہے مگر اس سے لازم نہیں آتا کہ ہم نے نص کو ظاہر سے باطن کی طرف پھیرا ہے بلکہ قطع نظر الہام الہی سے یہ استعارہ اس لئے ماننا پڑا کہ نصوص بینہ قرآن کریم و احادیث صحیحہ اُس کو حقیقت پر حمل کرنے سے روکتی ہیں چنانچہ ہم بار باران دلائل صریحہ واضحہ کو بیان کر چکے ہیں کہاں تک اعادہ کلام کریں۔ (۶) سوال مسیح موعود کے ساتھ احادیث میں کہیں مثیل کا لفظ دیکھا نہیں جاتا یعنی یہ کسی جگہ نہیں لکھا کہ مثیل مسیح ابن مریم آوے گا بلکہ یہ لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم آوے گا ۔ اما الجواب۔ پس سوچنا چاہیے کہ جب خدائے تعالیٰ نے آنے والے مثیل مسیح کا ابن کی مریم ہی نام رکھ دیا تو پھر وہ اس کو مثیل ابن مریم کر کے کیوں لکھتا۔ مثلا تم سوچو کہ جولوگ اپنی اولاد کے نام موسیٰ و داؤ دو عیسی وغیرہ رکھتے ہیں اگر چہ اُن کی غرض تو یہی ہوتی ہے کہ وہ نیکی اور خیر و برکت میں ان نبیوں کے مثیل ہو جائیں مگر پھر وہ اپنی اولاد کو اس طرح کر کے تو نہیں پکارتے کہ اے مثیل موسیٰ ۔ اے مثیل داؤد۔ اے مثیل عیسی بلکہ اصل نام ہی بطور تفاؤل پکارا جاتا ہے۔ پس کیا جو امر انسان محض تفاؤل کی راہ سے کر سکتا ہے وہ قادر مطلق نہیں کر سکتا ؟ کیا اس کو طاقت نہیں کہ ایک آدمی کی روحانی حالت کی ایک ۔ دوسرے آدمی کے مشابہ کر کے وہی نام اُس کا بھی رکھ دیوے؟ کیا اُس نے اسی روحانی حالت کی وجہ سے حضرت بیٹی کا نام ایلیا نہیں رکھ دیا تھا ؟ کیا اسی روحانی مناسبت کی وجہ سے حضرت مسیح ابن مریم کا نام توریت پیدائش باب ۴۹ میں سیلا نہیں رکھا گیا اور سیلا یہودا بن یعقوب علیہ السلام کے پوتے کا نام تھا۔ یہودا کو اسی باب میں مسیح ابن مریم کے آنے کی ان لفظوں میں بشارت دی گئی کہ یہودا سے ریاست کا عصا جدا نہ ہو گا جب تک سیلا نہ آوے۔ یہ نہ کہا گیا کہ جب تک ابن مریم نہ آوے۔ چونکہ مسیح ابن مریم اُس خاندان سے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے” حالت کو “ہونا چاہیے۔(ناشر)