ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 306
روحانی خزائن جلد ۳ ۳۰۶ ازالہ اوہام حصہ اول جیسا کہ اب تک بھی جو ۱۶ / اپریل ۱۸۹۱ء ہے پوری نہیں ہوئی ) تو اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی یہاں تک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔ اُس وقت گویا یہ پیشگوئی آنکھوں کے سامنے آگئی اور یہ معلوم ہورہا تھا کہ اب آخری دم ہے اور کل جنازہ نکلنے والا ہے۔ تب میں نے اس پیشگوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنے ہوں گے جو میں سمجھ نہیں سکا۔ تب اُسی حالت قریب الموت میں مجھے الہام ہوا الحق من ربك فلا تكونن من الممترین یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔ سو اُس وقت مجھ پر یہ بھید کھلا کہ کیوں خدائے تعالیٰ نے اپنے رسول کریم کو قرآن کریم میں کہا کہ تو شک مت کر ۔ سو میں نے سمجھ لیا کہ در حقیقت یہ آیت ایسے ہی نازک وقت سے خاص ہے جیسے یہ وقت تنگی اور نومیدی کا میرے پر ہے اور میرے دل میں یقین ہو گیا کہ جب نبیوں پر بھی ایسا ہی وقت آجاتا ہے جو میرے پر آیا تو (۳۹۹) خدائے تعالی تازہ یقین دلانے کے لئے اُن کو کہتا ہے کہ تو کیوں شک کرتا ہے اور مصیبت نے مجھے کیوں نو امید کر دیا تو نو امید مت ہو۔ (۵) سوال: ابن مریم کے اترنے کا ذکر جو احادیث میں موجود ہے کسی نے سلف اور خلف میں سے اس کی یہ تاویل نہیں کی کہ ابن مریم کے لفظ سے جو ظا ہر طور پر حضرت عیسی مسیح سمجھا جاتا ہے در حقیقت یہ مراد نہیں ہے بلکہ کوئی اس کا مثیل مراد ہے۔ ماسوا اس کے اس بات پر اجماع ہے کہ نصوص کو ظاہر پر حمل کیا جائے اور بغیر قرائن قویہ کے باطن کی طرف نہیں پھیرنا چاہیے۔ اما الجوب: پس واضح ہو کہ سلف اور خلف کے لئے یہ ایک ایمانی امر تھا جو پیشگوئی کو اجمالی طور پر مان لیا جائے انہوں نے ہر گز یہ دعوی نہیں کیا کہ ہم اس پیشگوئی کی تہ تک پہنچ گئے ہیں اور در حقیقت ابن مریم سے ابن مریم ہی مراد ہے۔ اگر اُن کی طرف سے ایسا دعویٰ ہوتا تو وہ دجال کے فوت ہو جانے کے قائل نہ ہوتے اور نہ قرآن شریف کے