ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 304
ازالہ اوہام حصہ اول روحانی خزائن جلد ۳ تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا اور کیوں اس وعدہ کا ایفاء نہ کیا جو تو نے پہلے سے کر رکھا تھا کہ تو مرے گا نہیں بلکہ یونس کی طرح تیرا حال ہوگا۔ اگر کہا جائے کہ خدائے تعالیٰ کے وعدہ حفاظت میں مسیح نے کیوں شک کیا سو واضح ہو کہ یہ شک ضعف بشریت سے ہے۔ جلالی تجلی (۳۹۵) کے سامنے بشریت کی کچھ پیش نہیں جاتی۔ ہر ایک نبی کو خدائے تعالیٰ یہ دن دکھاتا ہے۔ اول وہ کوئی وعدہ بشارت اپنے نبی کو دیتا ہے اور پھر جب وہ نبی اس وعدہ پر خوش ہو جاتا ہے تو ابتلا کے طور پر چاروں طرف سے ایسے موانع قائم کر دیتا ہے کہ جو نومیدی اور نا کامی پر دلالت کرتے ہوں بلکہ قطع اور یقین کی حد تک پہنچ گئے ہوں جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے ایک طرف تو ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بدر کی لڑائی میں فتح اور نصرت کی بشارت دی اور دوسری طرف جب لڑائی کا وقت آیا تو پھر پتہ لگا کہ مخالفوں کی اس قدر جمعیت ہے کہ بظاہر کامیابی کی امید نہیں ۔ تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت کرب و قلق ہوا اور جناب الہی میں رو رو کر دعائیں کیں کہ یا الہی اس گروہ کو فتح بخش اور اگر تو فتح نہیں دے گا اور ہلاک کر دے گا تو پھر قیامت تک کوئی تیری پرستش نہیں کرے گا۔ سو یہ الفاظ در حقیقت اس بات پر دلالت نہیں کرتے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیشگوئی کی نسبت شک میں پڑ گئے تھے بلکہ حالات موجودہ کو خلاف مراد دیکھ کر خدائے تعالیٰ کے غنائے ذاتی پر نظر تھی اور اس کی جلالی ہیبت سے متاثر ہو گئے تھے اور در حقیقت هر یک جگہ جو قرآن شریف میں نبی کریم کو کہا گیا ہے ۳۹۲ کہ تو ہمارے وعدہ میں شک مت کر وہ سب مقامات اسی قسم کے ہیں جن میں بظاہر سخت ناکامی کی صورتیں پیدا ہو گئی تھیں اور اسباب مخالفہ نے ایسا رعب ناک اپنا چہرہ دکھلایا تھا جن کو دیکھ کر ہر یک انسان ضعف بشریت کی وجہ سے حیران ہو جاتا ہے۔ سو ان وقتوں میں نبی کریم کو بطور تسلی دہی کے فرمایا گیا کہ اگر چہ حالت نہایت نازک ہے مگر تو باعث ضعف بشریت شک مت کر یعنی یہ خیال مت کر کہ شاید اس پیشگوئی کے اور معنے ہوں گے۔