ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 303

روحانی خزائن جلد ۳ ۳۰۳ ازالہ اوہام حصہ اول مولویوں کو جواب دیا کہ اس زمانہ کے حرامکار لوگ مجھ سے معجزہ مانگتے ہیں لیکن اُن کو بجز یونس (۳۹۳ نبی کے معجزہ کے اور کوئی معجزہ نہیں دکھایا جائے گا۔ یعنی یہ معجزہ دکھایا جائے گا کہ جیسے یونس نبی تین دن مچھلی کے پیٹ میں زندہ رہا اور مرانہیں ایسا ہی قدرت الہی سے میسج بھی تین دن تک بحالت زندگی قبر میں رہے گا اور اله نہیں مرے گا۔ اب خیال کرنا چاہیے کہ اگر مسیح کے الفاظ مذکورہ بالا کو حقیقی موت پر حمل کر لیں تو یہ معجزہ یونس کی مشابہت کا باطل ہو جائے گا کیونکہ یونس مچھلی کے پیٹ میں بحالت زندگی رہا تھا نہ مردہ ہو کر ۔ سواگر مسیح مر گیا تھا اور موت کی حالت میں قبر میں داخل کیا گیا تو اس کو یونس کے اس واقعہ سے کیا مشابہت ۔ اور یونس کے واقعہ کو اس کے اس واقعہ سے کیا مناسبت ؟ اور مُردوں کو زندوں سے کیا مماثلت۔ سو یہ کافی اور کامل قرینہ ہے کہ مسیح کا یہ کہنا کہ میں تین دن تک مروں گا حقیقت پر محمول نہیں بلکہ اس سے مجازی موت مراد ہے جو سخت غشی کی حالت تھی۔ اور اگر یہ عذر پیش ہو کہ مسیح نے مصلوب ہونے کے وقت یہ بھی کہا تھا کہ آج میں بہشت میں داخل ہوں گا پس اس سے صفائی کے ساتھ مسیح کا فوت ہونا ثابت ہوتا ہے۔ سو واضح ہو کہ مسیح کو (۳۹۴ بہشت میں داخل ہونے اور خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھائے جانے کا وعدہ دیا گیا تھا مگر وہ کسی اور وقت پر موقوف تھا جو سیح پر ظاہر نہیں کیا گیا تھا جیسا کہ قرآن کریم میں انی متوفیک ورافعک التی وارد ہے۔ سو اُس سخت گھبراہٹ کے وقت میں مسیح نے خیال کیا کہ شاید آج ہی وہ وعدہ پورا ہوگا ۔ چونکہ مسیح ایک انسان تھا اور اس نے دیکھا کہ تمام سامان میرے مرنے کے موجود ہو گئے ہیں لہذا اس نے برعایت اسباب گمان کیا کہ شاید آج میں مرجاؤں گا ۔ سو بباعث ہیبت تجلّی جلالی حالت موجودہ کو دیکھ کر ضعف بشریت اُس پر غالب ہو گیا تھا تبھی اس نے دل برداشتہ ہو کر کہا ایلی ایلی لما سبقتنی یعنی اے میرے خدا! اے میرے خدا!