ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 295 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 295

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۹۵ ازالہ اوہام حصہ اول بہت اصرار کیا کہ اس کو صلیب دے صلیب دے۔ اور سب مولوی اور فقیہ یہودیوں کے اکٹھے ہو کر کہنے لگے کہ یہ کافر ہے اور توریت کے احکام سے لوگوں کو پھیرتا ہے۔ پلاطوس اپنے دل میں خوب سمجھتا تھا کہ ان جزئی اختلافات کی وجہ سے ایک راستباز آدمی کو قتل کر دینا بے شک (۳۷۹) سخت گناہ ہے اسی وجہ سے وہ حیلے پیدا کرتا تھا کہ کسی طرح مسیح کو چھوڑ دیا جائے مگر حضرات مولوی کب باز آنے والے تھے انہوں نے جھٹ ایک اور بات بنائی کہ یہ شخص یہ بھی کہتا ہے کہ میں یہودیوں کا بادشاہ ہوں اور در پردہ قیصر کی گورنمنٹ سے باغی ہے۔ اگر تو نے اس کو چھوڑ دیا تو پھر یا درکھ کہ ایک باغی کو تو نے پناہ دی۔ تب پلا طوس ڈر گیا کیونکہ وہ قیصر کا ماتحت تھا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ پھر بھی اس خونِ ناحق سے ڈرتا رہا۔ اور اس کی عورت نے خواب دیکھی کہ یہ شخص راستباز ہے اگر پلا طوس اس کو قتل کرے گا تو پھر اسی میں اُس کی تباہی ہے۔ سو پلاطوس اس خواب کوسن کر اور بھی ڈھیلا ہو گیا اس خواب پر غور کرنے سے جو انجیل میں لکھی ہے ہر ایک ناظر بصیر سمجھ سکتا ہے کہ ارادہ الہی یہی تھا کہ مسیح کو قتل ہو جانے سے بچاوے۔ سو پہلا اشارہ منشاء الہی کا اس خواب سے ہی نکلتا ہے اس پر خوب غور کرو۔ بعد اس کے ایسا ہوا کہ پلاطوس نے آخری فیصلہ کے لئے اجلاس کیا اور نابکار مولویوں اور فقیہوں کو بہتیرا سمجھایا کہ مسیح کے خون سے باز آجاؤ مگر وہ باز نہ آئے بلکہ چیخ چیخ کر بولنے لگے کہ ضرور صلیب دیا جائے (۳۸۰ دین سے پھر گیا ہے۔ تب پلا طوس نے پانی منگوا کر ہاتھ دھوئے کہ دیکھو میں اس کے خون سے ہاتھ دھوتا ہوں ۔ تب سب یہودیوں اور فقیہوں اور مولویوں نے کہا کہ اس کا خون ہم پر اور ہماری اولاد پر ۔ پھر بعد اس کے مسیح اُن کے حوالہ کیا گیا اور اس کو تازیا نے لگائے گئے اور جس قدر گالیاں سننا اور فقیہوں اور مولویوں کے اشارہ سے طمانچے کھانا اور جنسی اور ٹھٹھے سے اڑائے جانا اس کے حق میں مقدر تھا سب اُس نے دیکھا۔ آخر صلیب دینے کے لئے طیار ہوئے یہ جمعہ کا دن تھا۔