ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 287 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 287

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۸۷ ازالہ اوہام حصہ اول کھڑ کی کھولی جائے اور شہید لوگ دنیا سے رخصت ہوتے ہی ہر یک پھل بہشت کا چن چن کر کھانے لگیں ۔ اگر بہشت میں داخل ہونا کامل ایمان کامل اخلاص کامل جانفشانی پر موقوف ہے تو بلا شبہ نبیوں اور صدیقوں سے اور کوئی بڑھ کر نہیں جن کی تمام زندگی خدائے تعالیٰ کے لئے وقف ہو جاتی ہے اور جو خدائے تعالیٰ کی راہ میں ایسے فدا ہوتے ہیں کہ بس مر ہی رہتے ہیں اور تمنا رکھتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ کی راہ میں شہید کئے جائیں اور پھر زندہ ہوں اور پھر شہید کئے جائیں اور پھر زندہ ہوں اور پھر شہید کئے جائیں۔ اب ہماری اس تمام تقریر سے بخوبی ثابت ہو گیا کہ بہشت میں داخل ہونے کے لئے ایسے زبر دست اسباب موجود ہیں کہ قریباً تمام مومنین یوم الحساب سے پہلے اس میں پورے طور پر داخل ہو جائیں گے اور یوم الحساب اُن کو بہشت سے خارج نہیں کرے گا بلکہ اُس وقت اور بھی بہشت نزدیک ہو جائے گا۔ کھڑکی کی مثال سے سمجھ لینا چاہیے کہ کیوں کر بہشت قبر سے (۳۶۵ نزدیک کیا جاتا ہے۔ کیا قبر کے متصل جو زمین پڑی ہے اُس میں بہشت آجاتا ہے؟ نہیں۔ بلکہ روحانی طور پر نزدیک کیا جاتا ہے۔ اسی طرح روحانی طور پر بہشتی لوگ میدانِ حساب میں بھی ہوں گے اور بہشت میں بھی ہوں گے۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میری قبر کے نیچے روضہ بہشت ہے۔ اس پر خوب غور کرو کہ یہ کس بات کی طرف اشارہ ہے؟ اور عُزیر کے فوت ہونے اور پھر سو برس کے بعد زندہ ہونے کی حجت جو پیش کی گئی ہے یہ حجت مخالف کے لئے کچھ مفید نہیں ہے کیونکہ ہرگز بیان نہیں کیا گیا کہ عُزیر کو زندہ کر کے پھر دنیا کے دارالہجوم میں بھیجا گیا تا یہ فساد لازم آوے کہ وہ بہشت سے نکالا گیا بلکہ اگر ان آیات کو اُن کے ظاہری معانی پر محمول کیا جاوے تو صرف یہ ثابت ہوگا کہ خدائے تعالیٰ کے کرشمہ قدرت نے ایک لمحہ کے لئے عزیز کو زندہ کر کے دکھلا دیا تا اپنی قدرت پر اس کو یقین دلا دے مگر وہ دنیا میں آنا صرف عارضی تھا اور دراصل عزیز