ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 286 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 286

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۸۶ ازالہ اوہام حصہ اول اور نیک بختوں اور شہیدوں اور صدیقوں کے لئے تا کیدی طور پر یہ حکم فرمایا گیا کہ وہ اپنے اُن بھائیوں کے لئے بدل و جان دعائے مغفرت کرتے رہیں جو اُن سے پہلے اس عالم میں گذر چکے ہیں اور ظاہر ہے کہ جن لوگوں کے لئے ایک لشکر مومنوں کا دعا کر رہا ہے وہ دعا ہر گز ہرگز خالی نہیں جائے گی بلکہ وہ ہر روز کام کر رہی ہے اور گنہ گار ایماندار جو فوت ہو چکے ہیں اُن کی اُس کھڑکی کو جو بہشت کی طرف تھی بڑے زور سے کھول رہی ہے ان دعاؤں نے اب تک بے شمار (۳۶۳) کھڑکیوں کو اس حد تک کشادہ کر دیا ہے کہ بے انتہا ایسے لوگ بہشت میں پہنچ چکے ہیں جن کو اول دنوں میں صرف ایک چھوٹی سی کھڑکی بہشت کے دیکھنے کے لئے عطا کی گئی تھی۔ اس زمانہ کے اُن تمام مسلمانوں کو جو موحد کہلاتے ہیں یہ دھوکا بھی لگا ہوا ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد بہشت میں داخل ہونے والے صرف شہید لوگ ہیں اور باقی تمام مومنین یہاں تک کہ انبیاء اور رسول بھی یوم الحساب تک بہشت سے باہر رکھے جائیں گے صرف ایک کھڑ کی اُن کے لئے بہشت کی طرف کھولی جائے گی۔ مگر اب تک انہوں نے اس بات کی طرف توجہ نہیں کی کہ کیا انبیاء اور تمام صدیق روحانی طور پر شہیدوں سے بڑھ کر نہیں ہیں اور کیا بہشت سے دور رہنا ایک قسم کا عذاب نہیں جو مغفورین کے حق میں تجویز نہیں ہو سکتا ؟ جس کے حق میں خدائے تعالیٰ یہ کہے کہ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَتِ لے کیا ایسا شخص سعادت اور فوز مرام میں شہیدوں کے پیچھے رہ سکتا ہے ؟ افسوس کہ ان لوگوں نے اپنی نافہمی سے شریعت غرا کو الٹا دیا ہے۔ اُن کے زعم میں سب سے پہلے بہشت میں داخل ہونے والے شہید ہیں اور شاید کہیں بے شمار برسوں کے بعد نبیوں اور صدیقوں کی بھی نوبت آوے اس کسرشان کا الزام اُن لوگوں پر بڑا بھاری ہے جو بودے عذروں سے دور نہیں ہوسکتا بے شک یہ بات سب کے فہم میں آسکتی ہے کہ جو لوگ ایمان اور عمل میں سابقین ہیں وہی لوگ دخول في الجنت میں بھی سابقین چاہیے نہ یہ کہ اُن کے لئے صرف ضعیف الایمان لوگوں کی طرح البقرة :۲۵۴