ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 285
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۸۵ ازالہ اوہام حصہ اول ہاں جب اس درجہ سے ترقی کرتا ہے تو ادنی درجہ سے اعلیٰ درجہ میں آجاتا ہے۔ اس ترقی کی ایک یہ بھی صورت ہے کہ جب مثلاً ایک شخص ایمان اور عمل کی ادنیٰ حالت میں فوت ہوتا ہے تو تھوڑی سی سوراخ بہشت کی طرف اس کے لئے نکالی جاتی ہے کیونکہ بہشتی تجلی کی اُسی قدر اس میں استعداد موجود ہوتی ہے۔ پھر بعد اس کے اگر وہ اولا دصالح چھوڑ کر مرا (۳۶۱ ) ہے جو جد و جہد سے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور صدقات و خیرات اُس کی مغفرت کی نیت سے مساکین کو دیتے ہیں یا ایسے کسی اہل اللہ سے اس کی محبت تھی جو تضرعات سے جناب الہی سے اس کی بخشش چاہتا ہے یا کوئی ایسا خلق اللہ کے فائدہ کا کام وہ دنیا میں کر گیا ہے جس سے بندگانِ خدا کو کسی قسم کی مدد یا آرام پہنچتا ہے تو اس خیر جاری کی برکت سے وہ کھڑ کی اس کی جو بہشت کی طرف کھولی گئی دن بدن اپنی کشادگی میں زیادہ ہوتی جاتی ہے اور سبقت رحمتی علی غضبی کا منشاء اور بھی اس کو زیادہ کرتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ کھڑ کی ایک بڑا وسیع دروازہ ہو کر آخر یہاں تک نوبت پہنچتی ہے کہ شہیدوں اور صدیقوں کی طرح وہ بہشت میں ہی داخل ہو جاتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بات شرعاً وانصافا وعقلا بے ہودہ ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ باوجود اس کے کہ ایک مرد مسلم فوت شدہ کے بعد ایک قسم کی خیر اس کے لئے جاری رہے اور ثواب اور اعمال صالحہ کی بعض وجوہ اس کے لئے کھلی رہیں مگر پھر بھی وہ کھڑ کی جو بہشت کی طرف اس کے لئے کھولی گئی ہے ہمیشہ اتنی کی اتنی ہی رہے جو پہلے دن کھولی گئی تھی۔ یا د رکھنا چاہیے کہ خدائے تعالیٰ نے اس کھڑکی کے کھولنے کے لئے پہلے سے اس قدر سامان کر رکھے ہیں جن سے بتفریح معلوم ہوتا ہے کہ اس کریم کا دراصل منشاء ہی یہی ہے کہ اگر ایک ذرہ ایمان و عمل لے کر بھی اس کی طرف کوئی سفر کرے تو وہ ذرہ بھی نشو ونما کرتا رہے گا اور اگر کسی اتفاق سے تمام سامان اس خیر کے جو میت کو اس عالم کی طرف سے پہنچتی ہے نا پیدا ر ہیں تاہم یہ سامان کسی طرح نا پیدا اور گم نہیں ہوسکتا کہ جو تمام مومنوں