ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 284
روحانی خزائن جلد ۳ مزہ نہیں چکھتے ۔ ۲۸۴ ازالہ اوہام حصہ اول ۳۵۹) دوسرا درجہ۔ پھر اس درجہ سے او پر جو ابھی ہم نے بہشتیوں اور دوزخیوں کے لئے بیان کیا ہے ایک اور درجہ دخول جنت دخول جہنم ہے جس کو درمیانی درجہ کہنا چاہیے اور وہ حشر اجساد کے بعد اور جنت عظمی یا جہنم کبری میں داخل ہونے سے پہلے حاصل ہوتا ہے اور بوجہ تعلق جسد کامل قومی میں ایک اعلیٰ درجہ کی تیزی پیدا ہو کر اور خدائے تعالیٰ کی تجلی رحم یا بجلی قہر کا حسب حالت اپنے کامل طور پر مشاہدہ ہو کر اور جنت عظمی کو بہت قریب پا کر یا جہنم کبری کو بہت ہی قریب دیکھ کر وہ لذات یا عقوبات ترقی پذیر ہو جاتے ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ آپ فرماتا ہے وَازْ لِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ - وَبُرْزَتِ الْجَحِيمُ لِلْغَوِيْنَ وَجُوْهُ يَوْمَيذٍ مُسْفِرَةٌ - ضَاحِكَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ وَ وُجُوهٌ يَوْمَيذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ - تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ - أولَيكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ " اس دوسرے درجہ میں بھی لوگ مساوی نہیں ہوتے بلکہ اعلیٰ درجہ کے بھی ہوتے ہیں جو بہشتی ہونے کی حالت میں بہشتی انوار اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ انہیں کی طرف اللہ جل شانہ فرماتا ہے نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ ۳ ایساہی دوزخی ہونے کی حالت میں اعلیٰ درجہ کے کفار ہوتے ہیں کہ قبل اس کے جو کامل طور پر دوزخ میں پڑیں اُن کے دلوں پر ۳۶۰ دوزخ کی آگ بھڑکائی جاتی ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے نَارُ اللهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْدَةِ ۔ پھر اس درجہ کے اوپر جو آخری درجہ ہے تیسرا درجہ ہے جو منتہائے مدارج ہے جس میں یوم الحساب کے بعد لوگ داخل ہوں گے اور اکمل اور اتم طور پر سعادت یا شقاوت کا مزہ چکھ لیں گے ۔ اب حاصل کلام یہ ہے کہ ان تینوں مدارج میں انسان ایک قسم کی بہشت یا ایک قسم کے دوزخ میں ہوتا ہے اور جبکہ یہ حال ہے تو اس صورت میں صاف ظاہر ہے کہ ان مدارج میں سے کسی درجہ پر ہونے کی حالت میں انسان بہشت یا دوزخ میں سے نکالا نہیں جاتا۔ الشعراء : ۹۲۹۱ عبس : ۴۲،۳۹: التحريم : ٩ الهمزة : ۸،۷