ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 280 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 280

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۸۰ ازالہ اوہام حصہ اول (۳) سوال مسیح کے دوبارہ آنے کے ابطال میں جو یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ مسیح کا فوت ہونا ثابت ہے اور ہر یک مومن راستباز مرنے کے بعد بہشت میں داخل ہو جاتا ہے اور ہر (۳۵۲) یک جو بہشت میں داخل ہو جاتا ہے وہ بر طبق آیت وَ مَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِينَ لے ہمیشہ رہنے کا بہشت میں حق رکھتا ہے۔ یہ دلیل صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اگر یہ صحیح ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ وہ قصہ صحیح نہ ہو جو عزم نبی کی نسبت قرآن شریف میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ نو برس تک مرارہا اور پھر خدائے تعالیٰ نے اس کو زندہ کیا وجہ یہ کہ برطبق قاعدہ مفروضہ بالا زندہ ہونے سے یہ ماننا پڑتا ہے کہ وہ بہشت سے خارج کیا گیا۔ ایسا ہی اس آیت کو ظاہر پر حمل کرنے سے مردوں کا قبروں سے جی اٹھنا اور میدانِ حساب میں رب العالمین کے حضور میں آنا یہ سب باتیں اس آیت کے ایسے معنے کرنے سے کہ راستباز انسان مرنے کے بعد بہشت میں بلا تو قف داخل ہو جاتا ہے اور پھر اس سے کبھی نہیں نکلتا باطل ہو جاتے ہیں اور مسلمات عقیدہ اسلام میں ایک سخت انقلاب پیدا ہو جاتا ہے۔ اما الجواب۔ پس واضح ہو کہ حقیقت میں یہ سچ ہے کہ جو شخص بہشت میں داخل کیا جاتا ہے پھر وہ اس سے کبھی خارج نہیں کیا جاتا۔ جیسا کہ اللہ جل شانہ مومنین کو وعدہ صادقہ ۳۵۳ دے کر فرماتا ہے لَا يَمَسُّهُمْ فِيهَا نَصَبٌ وَمَا هُمْ مِنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ " یعنی بہشت میں داخل ہونے والے ہر یک رنج اور تکلیف سے رہائی پاگئے اور وہ کبھی اس سے نکالے نہیں جائیں گے ۔ سورۃ الحجر الحجز و نمبر ۱۴۔ پھر ایک دوسری جگہ فرماتا ہے وَأَمَّا الَّذِينَ سُعِدُوا فَفِى الْجَنَّةِ خُلِدِينَ فِيهَا مَا دَامَتِ السَّموتُ وَالْأَرْضُ إِلَّا مَا شَاء رَبُّكَ عَطَاء غَيْرَ مَجْذُوذٍ - الجزول نمبر ۱۲ سورہ ہود ۔ یعنی سعید لوگ مرنے کے بعد بہشت میں داخل کئے جاتے ہیں اور ہمیشہ اُس میں رہیں گے جب تک آسمان و زمین ہے اور اگر یہ آسمان اور زمین بدلائے بھی جائیں جیسا کہ قیامت کے آنے کے وقت ہو گا تب بھی ا الحجر : ٤٩ هود : ۱۰۹