ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 279
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۷۹ ازالہ اوہام حصہ اول عطا ہو چکیں اس سے مقرب لوگ باہر نہیں کئے جاتے اور قیامت کے دن میں بحضور رب (۳۵۰ العالمین اُن کا حاضر ہونا اُن کو بہشت سے نہیں نکالتا کیونکہ یہ تو نہیں کہ بہشت سے باہر کوئی لکڑی یا لوہے یا چاندی کا تخت بچھایا جائے گا اور خدائے تعالیٰ مجازی حکام اور سلاطین کی طرح اس پر بیٹھے گا اور کسی قدر مسافت طے کر کے اُس کے حضور میں حاضر ہونا ہوگا تا یہ اعتراض لازم آوے کہ اگر بہشتی لوگ بہشت میں داخل شدہ تجویز کئے جائیں تو طلبی کے وقت انہیں بہشت سے نکلنا پڑے گا اور اس لق و دق جنگل میں جہاں تخت ربّ العالمین بچھایا گیا ہے حاضر ہونا پڑے گا۔ ایسا خیال تو سراسر جسمانی اور یہودیت کی سرشت سے نکلا ہوا ہے اور حق یہی ہے کہ ہم عدالت کے دن پر ایمان تو لاتے ہیں اور تخنت رب العالمین کے قائل ہیں لیکن جسمانی طور پر اس کا خاکہ نہیں کھینچتے اور اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ اللہ اور رسول نے فرمایا ہے وہ سب کچھ ہو گا لیکن ایسے پاک طور پر کہ جو خدائے تعالیٰ کے تقدس اور تنزہ اور اس کی تمام صفات کاملہ کے منافی و مغائر نہ ہو۔ بہشت تجلی گاو حق ہے یہ کیوں کر کہہ سکیں کہ اُس دن خدائے تعالیٰ ایک مجسم شخص کی طرح بہشت سے باہر اپنا خیمہ یا یوں کہو کہ اپنا تخت ((۳۵) بچھوا دے گا بلکہ حق یہ ہے کہ اس دن بھی بہشتی بہشت میں ہوں گے اور دوزخی دوزخ میں لیکن رحم الہی کی تجلی عظمی راستبازوں اور ایمانداروں پر ایک جدید طور سے لذات کا ملہ کی بارش کر کے اور تمام سامان بہشتی زندگی کا حسی اور جسمانی طور پر ان کو دکھلا کر اس نئے طور پر کے دار السلام میں ان کو داخل کر دے گی۔ ایسا ہی خدائے تعالیٰ کی قہری تجلی جہنم کو بھی بعد از حساب اور الزام صریح کے نئے رنگ میں دکھلا کر گویا جہنمی لوگوں کو نئے سرے جہنم میں داخل کرے گی۔ روحانی طور پر بہشتیوں کا بلا توقف بعد موت کے بہشت میں داخل ہو جانا اور دوزخیوں کا دوزخ میں گرایا جانا بتواتر قرآن شریف اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ کہاں تک ہم اس رسالہ کو طول دیتے جائیں ۔ اے خداوند قادر اس قوم پر رحم کر جو کلام الہی کو پڑھتے ہیں لیکن وہ پاک کلام اُن کے حلق سے آگے نہیں گذرتا۔