ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 275 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 275

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۷۵ ازالہ اوہام حصہ اول اب جبکہ توفی کے لفظ کی بخوبی تحقیقات ہو چکی اور ثابت ہو گیا کہ تمام قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک یہ لفظ فقط روح کے قبض کرنے کے معنوں میں استعمال کیا گیا ہے تو اب یہ دیکھنا باقی رہا کہ اس کے بعد جو فقرہ رافعک الی میں رفع کا لفظ ہے یہ کن معنوں پر (۳۴۳ قرآن شریف میں مستعمل ہے۔ جاننا چاہیے کہ رفع کا لفظ قرآن شریف میں جہاں کہیں انبیاء اور اخیار ابرار کی نسبت استعمال کیا گیا ہے عام طور پر اس سے یہی مطلب ہے کہ جوان برگزیدہ لوگوں کو خدائے تعالی کی جناب میں باعتبار اپنے روحانی مقام اور نفسی نقطہ کے آسمانوں میں کوئی بلند مرتبہ حاصل ہے۔ اس کو ظاہر کر دیا جائے اور ان کو بشارت دی جائے کہ بعد موت و مفارقت بدن اُن کی روح اُس مقام تک جو اُن کے لئے قرب کا مقام ہے اُٹھائی جائے گی۔ جیسا کہ اللہ جل شانہ ہمارے ستید و مولی کا اعلیٰ مقام ظاہر کرنے کی غرض سے قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَتِ! یعنی یہ تمام رسول اپنے مرتبہ میں یکساں نہیں بعض اُن میں سے وہ ہیں جن کو روبرو کلام کرنے کا شرف بخشا گیا اور بعض وہ ہیں جن کا رفع درجات سب سے بڑھ کر ہے۔ اس آیت کی تفسیر احادیث نبویہ میں یہی بیان کی گئی ہے کہ موت کے بعد ہر یک نبی (۳۴۴ کی روح آسمان کی طرف اُٹھائی جاتی ہے اور اپنے درجہ کے موافق اس روح کو آسمانوں میں سے کسی آسمان میں کوئی مقام ملتا ہے جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ اس مقام تک اس روح کا رفع عمل میں آیا ہے تا جیسا کہ باطنی طور پر اس روح کا درجہ تھا خارجی طور پر وہ درجہ ثابت کر کے دکھلایا جائے سو یہ رفع جو آسمان کی طرف ہوتا ہے تحقیق درجات کے لئے وقوع میں آتا ہے اور آیت مذکورہ بالا میں جو رفع بعضهم درجات ہے یہ اشارہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا رفع تمام نبیوں کے رفع ۔ البقرة :۲۵۴