ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 274
۲۷۴ ازالہ اوہام حصہ اول روحانی خزائن جلد ۳ (۳۳) صريحة الدلالت إِنّى مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى سے ظاہر ہے۔ انصاف کی آنکھ سے دیکھنا چاہیے کہ جس طرح حضرت مسیح کے حق میں اللہ جلّ شَانُهُ نے قرآن کریم میں اِنِّی مُتَوَفِّیک فرمایا ہے اسی طرح ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں فرمایا ہے وَإِمَّانُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ لا یعنی دونوں جگہ مسیح کے حق میں اور ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں تو فی کا لفظ موجود ہے پھر کس قدر نا انصافی کی بات ہے کہ ہمارے سید و مولی کی نسبت جو توفّی کا لفظ آیا ہے تو اس جگہ تو ہم وفات کے ہی معنے کریں اور اُسی لفظ کو حضرت عیسی کی نسبت اپنے اصلی اور شائع متعارف معنوں سے پھیر کر اور اُن متفق علیہ معنے سے جو اوّل سے آخر تک قرآن شریف سے ظاہر ہو رہے ہیں انحراف کر کے اپنے دل سے کچھ اور کے اور معنے تراش لیں ۔ اگر یہ الحاد اور تحریف نہیں تو پھر الحاد اور تحریف کس کو کہتے ہیں !!! جس قدر مبسوط ۳۴۲ تفاسیر دنیا میں موجود ہیں جیسے کشاف اور معالم اور تفسیر رازی اور ابن کثیر اور مدارک اور فتح البیان سب میں زیر تفسیر یا عیسی انی متوفیک یہی لکھا ہے کہ انی ممیتک حتف انفک یعنی اے عیسی میں تجھے طبعی موت سے مارنے والا ہوں بغیر اس کے کہ تو مصلوب یا مضروب ہونے کی حالت میں فوت ہو۔ غایت مافی الباب بعض مفسرین نے اپنی کو نہ اندیشی سے اس آیت کی اور وجوہ پر بھی تفسیریں کی ہیں لیکن صرف اپنے بے بنیاد خیال سے نہ کسی آیت یا حدیث صحیح کے حوالہ سے ۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو اُن سے پوچھا جاتا کہ حق کے ساتھ تم نے باطل کو کیوں اور کس دلیل سے ملایا ؟ بہر حال جب وہ اس بات کا اقرار کر گئے کہ منجملہ اقوال مختلفہ کے یہ بھی ایک قول ہے کہ ضرور حضرت مسیح فوت ہو گئے تھے اور ان کی روح اُٹھائی گئی تھی تو ان کی دوسری لغزشیں قابل عفو ہیں ان میں سے بعض جیسا کہ صاحب کشاف خود اپنی قلم سے دوسرے اقوال کو فیل کے لفظ سے ضعیف ٹھہرا گئے ہیں ۔ ال عمران : ۵۶ ۲ یونس : ۴۷