ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 264
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۶۴ ازالہ اوہام حصہ اول جن کو ایسے ایسے الہام بھی ہو گئے کہ جو آیتیں خاص پیغمبروں کے حق میں تھیں وہ اُمتی لوگوں کے حق میں قرار دے دیں۔ چنانچہ دو دفعہ بعض وہ آیتیں جو صحابہ کبار کے حق میں قرآن کریم میں تھیں اس عاجز کی طرف اپنے خط میں لکھ کر بھیج دیں کہ آپ کی نسبت مجھے یہ الہام ہوا ہے انہیں میں سے یہ آیات بھی ہیں (۱) قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكْهَا ) (۲) أَنْتَ مَوْلنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ " اور یہ عاجز کہ جو مولوی عبد اللہ غزنوی مرحوم سے محبت اور حسن ظن رکھتا ہے تو درحقیقت اس کی یہی وجہ ہے کہ اُن کو خدائے تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ یہ عاجز من جانب اللہ مامور ہونے والا ہے اور انہوں نے کئی خط لکھے اور اپنے الہامات متبر کہ ظاہر کئے اور بعض لوگوں کے پاس اس بارے میں بیان بھی کیا اور عالم کشف میں بھی اپنی یہ مراد ظاہر کی۔ ان سوالوں کے جوابات جو متفرق طور پر لوگ پیش کرتے ہیں سوال مسیح ابن مریم کا فوت ہونا قرآن شریف سے کہاں ثابت ہوتا ہے بلکہ یہ دونوں فقرے آیات کے یعنی رَافِعُكَ اِلَی اور بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ دلالت کر رہے ہیں کہ مسیح جسم کے ساتھ آسمان کی طرف اٹھایا گیا۔ ایسا ہی یہ آیت کہ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلكِنْ شُبّه لَهُمْ سے اسی پر دلالت کر رہی ہے کہ مسیح نہ مصلوب ہوا اور نہ مقتول ہوا۔ الجواب ۔ پس واضح ہو کہ خدائے تعالیٰ کی طرف اُٹھائے جانے کے یہی معنے ہیں کہ فوت ہو جانا۔ خدائے تعالیٰ کا یہ کہنا کہ ارجعي إلى رَبِّكِ ہے اور یہ کہنا کہ اِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى ایک ہی معنے رکھتا ہے۔ سوا اس کے جس وضاحت اور تفصیل اور توضیح کے ساتھ قرآن شریف میں مسیح کے فوت ہو جانے کا ذکر ہے اس سے بڑھ کر متصور نہیں کیونکہ خداوند عزوجل نے الشمس : ١٠ البقرة : ۲۸۷ النساء : ۱۵۸ الفجر : ٢٩ ۵ آل عمران : ۵۶