ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 263 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 263

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۶۳ ازالہ اوہام حصہ اول اُن کے بعض مکتوبات اس عاجز کے پاس موجود ہیں انشاء اللہ بوقت ضرورت شائع کئے جائیں گے۔ اب مولوی عبد الرحمان صاحب براہ مہربانی بیان فرما دیں کہ جبکہ سلف صالح کے بر خلاف قرآن شریف کے معنے کرنے سے انسان ملحد ہو جاتا ہے اور اسی وجہ سے یہ عاجز ۳۲۲ بھی اُن کی نظر میں ملحد ہے کہ خدائے تعالیٰ کے الہام سے بعض آیات کے معانی مخفی ظاہر کرتا ہے تو پھر مولوی عبداللہ صاحب مرحوم غزنوی کی نسبت جو اُن کے مرشد ہیں کیا فتوی ہے؟ (۳۲۳ صاف ظاہر ہے کہ مسیح جو جو کام اپنی قوم کو دکھلاتا تھا وہ دعا کے ذریعہ سے ہرگز نہیں تھے اور قرآن شریف میں بھی کسی جگہ یہ ذکر نہیں کہ مسیح بیماروں کے چنگا کرنے یا پرندوں کے بنانے کے وقت دعا کرتا تھا بلکہ وہ اپنی روح کے ذریعہ سے جس کو روح القدس کے فیضان سے برکت بخشی گئی تھی ایسے ایسے کام اقتداری طور پر دکھاتا تھا چنانچہ جس نے کبھی اپنی عمر میں غور سے انجیل پڑھی ہوگی وہ ۳۲۱ ہمارے اس بیان کی یہ یقین تمام تصدیق کرے گا اور قرآن شریف کی آیات بھی بآواز بلند یہی پکار رہی ہیں کہ مسیح کے ایسے عجائب کا موں میں اس کو طاقت بخشی گئی تھی اور خدائے تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ ایک فطرتی طاقت تھی جو ہر ایک فرد بشر کی فطرت میں موقع ہے بیج سے اس کی کچھ خصوصیت نہیں ۔ چنانچہ اس بات کا تجربہ اسی زمانہ میں ہو رہا ہے۔ مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہر عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم مفلوج مبروس وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہو جاتے تھے لیکن بعد کے زمانوں میں جو لوگوں نے اس قسم کے خوارق دکھلائے اُس وقت تو کوئی تالاب بھی موجود نہیں تھا۔ غرض یہ اعتقاد بالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اور اُن (۳۲۲ میں پھونک مار کر انہیں سچ سچ کے جانور بنا دیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیر ہو گیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہر حال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی در حقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی۔ جیسے سامری کا گوسالہ ۔ فتدبر - فانه نكتة جليلة ما يلقها إلا ذو حظ عظيم منه