ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 255
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۵۵ ازالہ اوہام حصہ اول اور بے اصل بات ہے صحابہ کا ہر گز اس پر اجماع نہیں ۔ بھلا اگر ہے تو کم سے کم تین سو یا چارسو صحابہ کا نام لیجئے جو اس بارہ میں اپنی شہادت ادا کر گئے ہیں ورنہ ایک یا دو آدمی کے بیان کا نام اجتماع رکھنا سخت بددیانتی ہے۔ ماسوا اس کے یہ بھی ان حضرات کی سراسر غلطی ہے کہ قرآن کریم (۳۰۴) کے معانی کو بزمانہ گذشتہ محدود و مقید سمجھتے ہیں۔ اگر اس خیال کو تسلیم کر لیا جاوے تو پھر قرآن شریف معجزہ نہیں رہ سکتا اور اگر ہو بھی تو شاید ان عربیوں کے لئے جو بلاغت شناسی کا مذاق رکھتے ہیں۔ جاننا چاہیے کہ کھلا کھلا اعجاز قرآن شریف کا جو ہر ایک قوم اور ہر یک اہل زبان پر روشن (۳۰۵) نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ بڑھئی کا کام در حقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کر نے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہو جاتی ہے اور جیسے انسان میں قومی موجود ہوں انہیں کے موافق اعجاز کے طور پر بھی مددملتی ہے جیسے ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی قومی جو دقائق اور معارف تک پہنچنے میں نہایت تیز و قوی تھے سو انہی کے موافق (۳۰۴) قرآن شریف کا معجزہ دیا گیا جو جامع جمیع دقائق و معارف الہیہ ہے۔ پس اس سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہیے کہ حضرت مسیح نے اپنے دادا سلیمان کی طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو اور ایسا معجزہ دکھانا عقل سے بعید بھی نہیں کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھا جاتا ہے کہ اکثر صناع ایسی ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سنا ہے کہ بعض چڑیاں گن کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں۔ بمبئی اور کلکتہ میں ایسے کھلونے بہت بنتے ہیں اور یوروپ اور امریکہ کے ملکوں میں بکثرت ہیں اور ہر سال نئے نئے نکلتے آتے ہیں۔ اور چونکہ قرآن شریف اکثر استعارات سے بھرا ہوا ہے اس لئے ان آیات کے روحانی طور پر یہ معنی بھی کر سکتے ہیں کہ مٹی کی چڑیوں سے مراد وہ اُمی اور نادان لوگ ہیں جن کو حضرت عیسی نے اپنا رفیق بنایا گویا اپنی صحبت میں لے کر پرندوں کی صورت کا خاکہ کھینچا پھر ہدایت کی روح اُن میں پھونک دی جس سے وہ پرواز کرنے لگے۔ ماسوا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طريق عمل الترب یعنی مسمریز می طریق