ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 254
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۵۴ ازالہ اوہام حصہ اول ۳۰۱) اور اگر یہ کہا جاوے کہ قرآن شریف کے ایسے معنے کرنا کہ جو پہلوں سے منقول نہیں ہیں الحاد ہے جیسے مولوی عبد الرحمان صاحبزادہ مولوی محمد لکھو والہ نے اس عاجز کی نسبت لکھا ہے تو میں کہتا ہوں کہ میں نے کوئی ایسے اجنبی معنے نہیں کئے جو مخالف ان معنوں کے ہوں جن پر صحابہ ۳۰۲ کرام اور تابعین اور تبع تابعین کا اجماع ہوا کثر صحابہ مسیح کا فوت ہو جانا مانتے رہے ، دجال معہود کا فوت ہو جانا مانتے رہے پھر مخالفانہ اجماع کہاں سے ثابت ہو قرآن شریف میں تھیں کے قریب ایسی شہادتیں ہیں جو مسیح ابن مریم کے فوت ہونے پر دلالت بین کر رہی ہیں غرض یہ (۳۰۳) بات کہ مسیح جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر چڑھ گیا اور اسی جسم کے ساتھ اُترے گا نہایت لغو جن میں انسان کی تدبیر اور عقل کو کچھ دخل نہیں ہوتا جیسے شق القمر جو ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا اور خدائے تعالی کی غیر محدود قدرت نے ایک راستباز اور کامل نبی کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے اس کو دکھایا تھا۔ (۲) دوسرے عقلی معجزات ہیں جو اس خارق عادت عقل کے ذریعہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں جو الہام الہی سے ملتی ہے جیسے حضرت سلیمان کا وہ معجزہ جو صرح مُمَرَّدُ مِنْ قَوَارِيرَ ل ہے جس کو دیکھ کر بلقیس کو ایمان نصیب ہوا۔ ۳۰۳ اب جانا چاہیے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت مسیح کا معجزہ حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ اُن دنوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے اور دراصل بے سود اور عوام کر فریفتہ کرنے والے تھے ۔ وہ لوگ جو فرعون کے وقت میں مصر میں ایسے ایسے کام کرتے تھے جو سانپ بنا کر دکھلا دیتے تھے اور کئی قسم کے جانور طیار کر کے ان کو زندہ جانوروں کی طرح چلا دیتے تھے۔ وہ حضرت مسیح کے وقت میں عام طور پر یہودیوں کے ملکوں میں پھیل گئے تھے اور یہودیوں نے اُن کے بہت سے ساحرانہ کام سیکھ لئے تھے جیسا کہ قرآن کریم بھی اس بات کا شاہد ہے۔ سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدائے تعالی نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یا کسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پیروں سے چلتا ہو کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس برس کی مدت تک النمل: ۴۵