ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 252
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۵۲ ازالہ اوہام حصہ اول حوالہ بخدا کر دینا چاہیے۔ اب دیکھو کہ یہ خدائے تعالی کی طرف سے ایک ایسی کامل تعلیم ہے کہ اُسی کی برکت سے ہم ہزار ہا ایسے جھگڑوں سے نجات پا سکتے ہیں جو قصص ماضیہ یا پیشگوئیوں کی نسبت اس زمانہ میں پیدا ہور ہے ہیں کیونکہ ہر یک (۲۹۷) اعتراض خلاف عقل معنے کو حقیقت پر حمل کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔ پس جبکہ ہم نے اس ضد کو ہی چھوڑ دیا اور اپنے مولیٰ کی ہدایت کے موافق تمام متشابہات میں جن کا سمجھنا عقل پر مشتبہ رہتا ہے یہی اصول مقرر کر رکھا کہ اُن پر اجمالی طور پر ایمان لاویں ۲۹۸ اور اُن کی اصل حقیقت حوالہ بخدا کریں تو پھر اعتراض کے لئے کوئی بنیاد پیدا نہیں ہو سکتی مثلاً ایک صحیح حدیث میں یہ لکھا ہو کہ اگر دس اور دس کو جمع کریں تو وہ ہیں" ۲۹۸ تو اس سے اس کی خدائی باطل ہوتی ہے اور موحد صاحب کا یہ عذر کہ ہم ایسا اعتقاد تو نہیں رکھتے کہ اپنی ذاتی طاقت سے حضرت عیسی خالق طیور تھے بلکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ یہ طاقت خدائے تعالی نے اپنے اذن اور ارادہ سے اُن کو دے رکھی تھی اور اپنی مرضی سے ان کو اپنی خالقیت کا حصہ دار بنادیا تھا اور یہ اس کو اختیار ہے کہ جس کو چاہے اپنا مثیل بنا دیوے قادر مطلق جو ہوا ۔ یہ سراسر مشر کا نہ باتیں ہیں اور کفر سے بدتر ۔ اس موحد کو یہ بھی کہا گیا کہ کیا تم اب شناخت کر سکتے ہو کہ ان پرندوں میں سے کون سے ایسے پرندے ہیں جو خدائے اتعالیٰ کے بنائے ہوئے ہیں اور کون سے ایسے پرندے ہیں جو اُن پرندوں کی نسل ہیں جن کے حضرت عیسی خالق ہیں؟ تو اس نے اپنے ساکت رہنے سے یہی جواب دیا کہ میں شناخت نہیں کر سکتا۔ اب واضح رہے کہ اس زمانہ کے بعض موحدین کا یا اعتقاد کہ پرندوں کے نوع میں سے کچھ تو خدائے تعالیٰ کی مخلوق اور کچھ حضرت عیسی کی مخلوق ہے۔ سراسر فاسد اور مشرکانہ خیال ہے اور ایسا خیال رکھنے والا بلاشبہ وائر و اسلام سے خارج ہے۔ اور یہ عذر کہ ہم حضرت عیسی کو خدا تو نہیں مانتے بلکہ یہ مانتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے بعض اپنی خدائی کی صفتیں انکو عطا کر دی تھیں نہایت مکروہ اور باطل عذر ہے کیونکہ اگر خدائے تعالیٰ اپنے اذن اور ارادہ سے اپنی خدائی کی صفتیں بندوں کو دے سکتا ہے تو بلاشبہ وہ اپنی ساری صفتیں خدائی کی ایک بندے کو دے کر پورا خدا بنا سکتا ہے۔ پس اس صورت میں مخلوق پرستوں کے کل مذاہب بچے ٹھہر جائیں گے کیونکہ اگر خدائے تعالیٰ کسی بشر کو اپنے اذن اور ارادہ سے خالقیت کی صفت عطا کر سکتا ہے تو پھر وہ اسی طرح کسی کو اذن اور ارادہ سے اپنی طرح عالم الغیب بھی بنا سکتا ہے اور اس کو ایسی قوت بخش سکتا ہے جو خدائے تعالیٰ