ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 228
۲۲۸ روحانی خزائن جلد ۳ ازالہ اوہام حصہ اول ذرہ بھی غیظ و غضب ظاہر نہیں کیا اور پھر آخر مثیل ٹھہرانے کی یہاں تک نوبت پہنچی کہ بار بار ۲۵۴ یا احمد کے خطاب سے مخاطب کر کے ظلی طور پر مثیل سید الانبیاء وامام الاصفیاء حضرت مقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم قرار دیا تو کوئی ہمارے مفسروں اور محدثوں میں سے جوش و خروش میں نہیں آیا اور جب خدائے تعالیٰ نے اس عاجز کو میسی یا مثیل عیسی کر کے پکارا تو سب کے شدت طیش اور غضب کی وجہ سے چہرے سرخ ہو گئے اور سخت درجہ کا اشتعال پیدا ہو کر کسی نے اس عاجز کو کافر ٹھہرا دیا اور کسی نے اس عاجز کا نام ملحد رکھا جیسا کہ مولوی عبدالرحمن صاحب خلف مولوی محمد لکھو والہ نے اس عاجز کا نام محمد رکھا اور جابجا یہ بھی ذکر کیا کہ یہ شخص بہت خراب آدمی ہے ۔ چنانچہ ایک شخص عبد القادر نام شر قبور ضلع لا ہور کے رہنے والے پاس بھی یہی ذکر کیا کہ یہ شخص ملحد اور بد مذہب اور خراب اور ملاقات کے لائق نہیں۔ علاوہ اس کے ان لوگوں نے اشتعال کی حالت میں اسی پر بس نہیں کی بلکہ یہ بھی چاہا کہ خدا تعالی کی طرف سے بھی اس بارہ میں کوئی شہادت ملے تو بہت خوب ہو ۔ چنانچہ انہوں (۲۵۵) نے غصہ بھرے دل کے ساتھ استخارے کئے اور چونکہ قدیم سے قانون قدرت خدائے تعالی کا یہی ہے کہ جو شخص نفسانی تمنا سے کسی امر غیب کا منکشف ہونا چاہتا ہے تو شیطان اُس کی تمنا میں ضرور دخل دیتا ہے بجز انبیاء اور محدثین کے کہ ان کی وحی شیطان کے دخل سے منزہ کی جاتی ہے پس اسی وجہ سے حضرت عبدالرحمن صاحب اور اُن کے رفیق نیست میاں عبد الحق غزنوی کے استخارہ پر وہ بئس القرین ثرت حاضر ہو گیا اور اُن کی زبان پر جاری کرا دیا کہ وہ شخص یعنی یہ عاجز جہنمی ہے اور ملحد ہے اور ایسا کافر ہے کہ ہرگز ہدایت پذیر نہیں ہو گا۔ میں پوچھتا ہوں کہ کیا علماء کے لئے عند الشرع یہ جائز ہے کہ کسی ایسے مسئلہ میں جو خیر القرون کے لوگ ہی اُس پر اتفاق نہ رکھتے ہوں اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا اس پر اجماع ثابت نہ ہو ایک ایسے ملہم کی نسبت جو بعض احادیث اور قرآن کریم امکانی طور پر اُس کے صدق پر شاہد ہوں تکفیر کا فتوی لگا دیں یہ بات سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ