ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 227
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۲۷ ازالہ اوہام حصہ اول ایک اور حدیث بھی مسیح ابن مریم کے فوت ہو جانے پر دلالت کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ قیامت کب آئے گی تو آپ نے فرمایا کہ آج کی تاریخ سے سو برس تک تمام بنی آدم پر قیامت آجائے گی اور یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ سو برس کے عرصہ سے کوئی شخص زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا اسی بناء پر اکثر علماء وفقرا اسی طرف گئے ہیں کہ خضر بھی فوت ہو گیا کیونکہ مخبر صادق کے کلام میں کذب جائز نہیں مگر افسوس کہ ہمارے علماء نے اس قیامت سے بھی مسیح کو باہر رکھ لیا تعجب کہ اور بنی اسرائیل کے انبیاء کی نسبت مسیح کو کیوں زیادہ عظمت دی جاتی ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ ہمارے بھائی مسلمان کسی ایسے زمانہ سے کہ جب سے بہت سے عیسائی دین اسلام میں داخل ہوئے ہوں گے اور (۲۵۳) کچھ کچھ حضرت مسیح کی نسبت اپنے مشرکانہ خیالات ساتھ لائے ہوں گے اس بے جا عظمت دینے کے عادی ہو گئے ہیں جس کو قرآن شریف تسلیم نہیں کرتا اس لئے خاص طور پر مسیح کی تعریف کے بارے میں اُن میں حدموزوں سے زیادہ غلو پایا جاتا ہے۔ انصاف کی نظر سے دیکھنا چاہیے کہ کتاب براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ نے اس عاجز کو آدم صفی اللہ کا مثیل قرار دیا اور کسی کو علماء میں سے اس بات پر ذرہ رنج دل میں نہیں گزرا اور پھر مثیل نوح قرار دیا اور کوئی رنجیدہ نہیں ہوا اور پھر مثیل یوسف علیہ السلام قرار دیا اور کسی مولوی صاحب کو اس سے غصہ نہیں آیا اور پھر مثیل حضرت داؤد بیان فرمایا اور کوئی علماء میں سے رنجیدہ خاطر نہیں ہوا ۔ اور پھر مثیل موسی کر کے بھی اس عاجز کو پکارا تو کوئی فقیہوں اور محدثوں میں سے مشتعل نہیں ہوا یہاں تک کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کو مثیل ابراہیم بھی کہا تو کسی شخص نے ایک حدیث نبوی کا یہ فقرہ کہ میں چالیس دن تک قبر میں نہیں رہ سکتا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اول چند روز گو کیسا ہی مقدس آدمی ہو قبر سے اور اس عالم خاکی سے ایک بڑھا ہوا تعلق رکھتا ہے۔ کوئی دینی خدمات کی زیادہ پیاس کی وجہ سے اور کوئی اور اور وجوہ سے اور پھر وہ تعلق ایسا کم ہو جاتا ہے (۲۵۲ کہ گویا وہ صاحب قبر قبر میں سے نکل جاتا ہے اور نہ روح تو مرنے کے بعد اُسی وقت بلا توقف آسمان پر اپنے نفسی نقطہ پر جانطہرتی ہے۔ منہ