ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 226
روحانی خزائن جلد ۳ ۲۲۶ ازالہ اوہام حصہ اول داؤد علیہ السلام بوحی الہی یہ فرماتے ہیں کہ تو میری جان کو قبر میں رہنے نہیں دے گا اور تو اپنے قدوس کو سڑنے نہیں دے گا یعنی بلکہ تو مجھے زندہ کرے گا اور اپنی طرف اُٹھا لے گا ۲۵۱) اسی طرح شہداء کے حق میں بھی قرآن کریم فرماتا ہے وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَا عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ کے یعنی جو لوگ خدائے تعالیٰ کی راہ ۲۵۲ میں قتل کئے گئے تم اُن کو مر دے نہ سمجھو بلکہ وہ تو زندہ ہیں اور انہیں اپنے رب کی طرف سے رزق مل رہا ہے۔ ۲۵۰ ۲۵۱ کہ ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم کے قبر میں زندہ ہو جانے اور پھر آسمان کی طرف اٹھائے جانے کی نسبت مسیح کے اُٹھائے جانے میں کونسی زیادتی ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ عیسی بن مریم کی حیات حضرت موسیٰ کی حیات سے بھی درجہ میں کمتر ہے اور اعتقاد صیح جس پر اتفاق سلف صالح کا ہے اور نیز معراج کی حدیث بھی اس کی شاہد ناطق ہے یہی ہے کہ انبیاء بحیات جسمی مشابه بحیات جسمی دنیاوی زندہ ہیں اور شہداء کی نسبت اُن کی زندگی اکمل واقوئی ہے اور سب سے زیادہ اکمل واقوئی وا شرف زندگی ہمارے سید و مولی فداء له نفسی و ابی و امی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے۔ حضرت مسیح تو صرف دوسرے آسمان میں اپنے خالہ زاد بھائی اور نیز اپنے مرشد حضرت یحیی کے ساتھ مقیم ہیں لیکن ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے اعلیٰ مرتبہ آسمان میں جس سے بڑھ کر اور کوئی مرتبہ نہیں تشریف فرما ہیں عند سدرة المنتهى بالرفيق الاعلی اور اُمت کے سلام وصلوات برابر آنحضرت کے حضور میں پہنچائے جاتے ہیں اللهم صل على سيدنا محمد وعلى ال سيدنا محمد اكثر مما صليت على احد من انبیائک و بارک وسلم اور یہ خیال کہ انبیاء زندہ ہو کر قبر میں رہتے ہیں صحیح نہیں ہے ہاں قبر سے ایک قسم کا اُن کا تعلق باقی رہتا ہے اور اسی وجہ سے وہ کشفی طور پر اپنی اپنی قبروں میں نظر آتے ہیں مگر یہ نہیں کہ وہ قبروں میں ہوتے ہیں بلکہ وہ تو ملائک کی طرح آسمانوں میں جو بہشت کی زمین ہے اپنے اپنے مرتبہ کے موافق مقام رکھتے ہیں اور بیداری میں پاک دل لوگوں سے کبھی کبھی زمین پر آکر ملاقات بھی کر لیتے ہیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اکثر اولیاء سے عین بیداری کی حالت میں ملاقات کرنا کتابوں میں بھرا پڑا ہے اور مؤلف رسالہ ہذا بھی کئی دفعہ اس شرف سے مشرف ہو چکا ہے والحمد للہ علی ذالک۔ اور ال عمران : ۱۷۰