ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 225 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 225

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۲۵ ازالہ اوہام حصہ اول کہ حضرت عیسی فوت ہو چکے ہیں اور ناظرین پر واضح ہوگا کہ حضرت ابن عباس قرآن کریم کے سمجھنے میں اول نمبر والوں میں سے ہیں اور اس بارے میں اُن کے حق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا بھی ہے۔ پھر اسی معالم میں لکھا ہے کہ وہب سے یہ روایت ہے کہ حضرت عیسی تین گھنٹہ کے لئے ﴿۲۴۸ مر گئے تھے اور محمد بن اسحاق سے روایت ہے کہ نصاری کا یہ گمان ہے کہ ساٹھ گھنٹہ تک مرے رہے مگر مؤلف رسالہ ھذا کو تعجب ہے کہ محمد بن اسحاق نے سات گھنٹہ تک مرنے کی نصاری کی کن کتابوں سے روایت لی ہے کیونکہ تمام فرقے نصاریٰ کے اسی قول پر متفق نظر آتے ہیں کہ تین دن تک حضرت عیسی مرے رہے اور پھر قبر میں سے آسمان کی طرف اُٹھائے گئے اور چاروں انجیلوں سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے اور خود حضرت عیسی انجیلوں میں اپنی تین دن کی موت کا اقرار بھی کرتے ہیں بہر حال موت اُن کی ثابت ہے اور ماسوا ان دلائل متذکرہ کے یہود و نصاری کا بالاتفاق اُن کی موت پر اجماع ہے اور تاریخی ثبوت بتواتر اُن کے مرنے پر شاہد ہے اور پہلی کتابوں میں بھی بطور پیشگوئی اُن کے مرنے کی خبر دی گئی تھی۔ اب یہ گمان کہ مرنے کے بعد پھر اُن کی روح اُسی جسم خاکی میں داخل ہو گئی اور وہ جسم زندہ ہو کر آسمان کی طرف اٹھایا گیا ۔ یہ سراسر غلط گمان ہے یہ بات باتفاق جميع كتب البیہ ثابت ہے کہ انبیاء و اولیاء مرنے کے بعد پھر زندہ ہو جایا کرتے ہیں یعنی ایک قسم کی ۲۴۹ زندگی انہیں عطا کی جاتی ہے جو دوسروں کو نہیں عطا کی جاتی ۔ اسی طرف وہ حدیث اشارہ کرتی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ مجھے قبر میں میت بہنے نہیں دے گا اور زندہ کر کے اپنی طرف اُٹھا لے گا اور زبور نمبر ۱۶ میں بھی حضرت (۲۵۰) حاشیه اصل ترجمه حدیث کا یہ ہے کہ میری عزت خدائے تعالیٰ کی جناب میں اس سے زیادہ ہے کہ مجھے چالیس دن تک قبر میں رکھے یعنی میں اس مدت کے اندر اندر زندہ ہو کر آسمان کی طرف اُٹھایا جاؤں گا ۔ اب دیکھنا چاہیے سہو کتابت معلوم ہوتا ہے سات گھنٹہ ہونا چاہیے۔ قال محمد بن اسحق ان النصارى يزعمون ان الله تعالى توفاه سبع ساعات من النهار ، تفسير البغوى زير آيت ال عمران :۵۶)- (ناشر)