ازالہ اَوہام حصہ اول

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 211 of 748

ازالہ اَوہام حصہ اول — Page 211

روحانی خزائن جلد ۳ ۲۱۱ ازالہ اوہام حصہ اول قسمیں کھا کر کہا کہ یہی وجال معہود ہے تو کیا اس کے دجال معہود ہونے میں کچھ شک رہ گیا ہے۔ اب ابن صیاد کا حال سنیے کہ اس کا انجام کیا ہوا سو یہ مسلم کی حدیث سے واضح ہوتا ہے اور وہ یہ ہے وعن ابی سعید الخدري قال صحبت ابن صياد الى مكة فقال لى ما لقيت من الناس يزعمون انّى الدجال الست سمعت رسول الله صلى الله | عليه وسلم يقول انه لا يُولَدُ له وقد ولد لى اليس قد قال وهو كافر وانا مسلم اوليس قد قال لا يدخل المدينة ولامكة وقد اقبلت من المدينة وانا اريد مكة اور ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ میں نے بہمراہی ابن صیاد کے بعزم مکہ سفر کیا۔ تب اُس سفر میں ابن صیاد نے مجھ کو کہا کہ لوگوں کی یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم کی ان باتوں سے مجھے بہت ایذا پہنچتا ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ دجال معہود میں ہی ہوں اور تم جانتے ہو کہ اصل حقیقت اس کے برخلاف ہے تو نے سنا ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے (۲۳۳) تھے کہ دجال لاولد رہے گا اور میں صاحب اولاد ہوں اور نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ دجال کا فر ہو گا اور میں مسلمان ہوں اور فرمایا تھا کہ دجال مدینہ اور مکہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ اور میں مدینہ سے تو آیا ہوں اور مکہ کی طرف چلا جاتا ہوں۔ اب دیکھنا چاہیے کہ یہ کیسا عجیب معاملہ ہے کہ بعض صحابہ قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ابن صیاد ہی دجال ہے اور صحیحین میں بروایت جابر لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کے قسم کھانے پر کہ دجال معہود یہی شخص ہے خاموشی اختیار کر کے اپنی رائے ظاہر کر دی کہ در حقیقت دجال معہود ابن صیاد ہی تھا اور صحیح مسلم میں ابن صیاد کا مشرف باسلام ہونا حاشیه ابن صیاد کا یہ بیان کہ لوگ مجھے دجال معہود سمجھتے ہیں صاف دلیل اس بات پر ہے کہ تمام ۲۲۲ صحابہ رضی اللہ عنہم اس کو دجال معہود سمجھتے تھے نہ کوئی اور دجال۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا اس بات پر اجماع ہو گیا تھا کہ ابن صیاد ہی دجال معہود ہے۔ منہ